تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 245 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 245

تاریخ احمدیت۔جلد 27 245 سال 1971ء میرے پیارے بھائیو جو مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ پیارے ہیں۔السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ مجھے یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ آپ چند دن اکٹھے گزارنے کے لئے اور اللہ اور رسول کی باتیں سننے کے لئے یہاں جمع ہوئے ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ پر خصوصی فضل فرمائے اور جب آپ لوگ یہاں سے واپس اپنے گھروں کو لوٹیں تو آپ کی روحانی حالت مزید ترقی کر چکی ہو۔اپنا وقت ذکر الہی اور دعاؤں میں گزاریں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کا مقصد اسلام کا احیائے نو تھا تا کہ دنیا خدائے واحد کو پہچان سکے اور مشرق و مغرب سچائی کے نور سے منور ہوسکیں۔اللہ نے آپ لوگوں کو اس نور سے منور کیا ہے۔شکر کا تقاضا ہے کہ اسلام کی فتح کے دن کو قریب لانے کے لئے ہم سر توڑ کوششیں کریں۔لیکن یہ کوششیں خلافت کے تابع ہونی چاہئیں۔ہم اور ہماری کوششیں کچھ نہیں بلکہ یہ سب خلافت کی ہی برکات کے تابع ہیں۔خلافت سے اپنے تعلق کو مضبوط کرو۔اور خلافت کے مقرر کردہ نمائندوں سے تعاون کرو۔تا کہ اس اتحاد کی برکت سے اللہ کا خاص فضل ہم پر نازل ہو۔ہمیشہ متحد رہو کیونکہ اتحاد سے ہی ہم اپنے عظیم مقاصد کو پا سکتے ہیں۔اللہ کے فضل کے بغیر ہم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے اور اللہ کا فضل تقویٰ کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا۔ہمیشہ اللہ کی ناراضگی سے ڈرو اور اپنی زندگیوں میں پاک تبدیلی لانے کی کوشش کرو۔60 حضور کے پیغام کے بعد وکیل التبشیر صاحب کی طرف سے آمدہ پیغام بھی پڑھ کر سنایا گیا۔ازاں بعد رشید احمد صاحب امریکن نے سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض پہلو بیان کر کے احباب کے ایمان کو تازہ کیا۔پھر منیر احمد صاحب امیر سینٹ لوئس نے مسیح ہندوستان میں“ کے موضوع پر تقریر کی۔پھر ڈاکٹر خلیل احمد صاحب ناصر نے اسلام موجودہ زمانہ میں“ کے موضوع پر عمدگی سے روشنی ڈالی اور بتلایا کہ اسلام ہی موجودہ زمانہ کے مسائل حل کر سکتا ہے اور اس وقت کی مشکلات کا مداوا ہے۔اس کے بعد ملک عبد المنان صاحب نے دعاؤں کی قبولیت کے گر“ پر تقریر فرمائی اور بالآخر چوہدری عبدالرحمن خان صاحب نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رحمتہ للعالمین ہونے پر روشنی ڈالی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈال کر واضح