تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 242
تاریخ احمدیت۔جلد 27 242 سال 1971ء علاقہ مٹھی کے متعلق ایک اظہار افسوس بھی بے محل نہ ہو گا کہ اس علاقہ کے نو مسلمین نے الا ماشاء اللہ ایسی ایمانی جرات اور بے خوفی کا اظہار نہیں کیا جیسی علاقہ نگر پارکر کے نو مسلمین نے شروع ہی میں دکھائی۔جبکہ نگر پارکر کی طرف آغاز تبلیغ ہی سے ایمانی جرات کے شاندار مظاہرے ہوتے رہے۔میٹھی میں بہت دیر تک نئے اسلام لانے والے ماحول کے خوف سے دبے چھپے رہے اور آج تک بھی بہت سے ان میں سے ایسے ہیں جو ماحول کے ڈر سے مخفی رہنا پسند کرتے ہیں۔لہذا اس غرض سے ان کی ٹھوس تربیت کی جائے اور اللہ تعالیٰ پر توکل پیدا کیا جائے اور غیر اللہ کے خوف کو دل سے حرف غلط کی طرح مٹادیا جائے۔وہاں ایک نئے معلم مکرم گل محمد صاحب کو مقرر کیا گیا ہے جن سے دفتر کو بھاری توقع ہے کہ وہ انشاء اللہ مٹھی کی جماعت میں ایک نئی روح پھونک دیں گے۔یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے دفتر کی اس توقع کو امید سے بھی پہلے پورا فرما دیا اور مکرم گل محمد صاحب کو توفیق بخشی کہ جماعت مٹھی کی صحت مندانہ خطوط پر تربیت کر سکیں۔چنانچہ تازہ ترین رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں با قاعدہ جماعت قائم کر کے پاکستان کی دیگر جماعتوں کی طرح چندہ کا بجٹ بھی بنالیا گیا ہے اور نومسلم انشاء اللہ اپنے دیگر بھائیوں کے دوش بدوش اسلام کی راہ میں مالی قربانی کیلئے تیار ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کی شان ہے اور احمدیت یعنی حقیقی اسلام کا معجزہ ہے کہ وہ لوگ جو دنیاوی اموال کے لالچ سے عیسائیت کی جانب مائل نہ ہوئے با وجود غربت کے اسلام کو اس طرح قبول کر رہے ہیں کہ اموال لینے کی بجائے اس صداقت کی راہ میں اپنے اموال لٹانے لگے ہیں۔اللهم زدفرد۔آج وہی مٹھی جس کے بارہ میں ہم تربیتی لحاظ سے فکر مند تھے اس علاقہ کی دیگر جماعتوں کے لئے نمونہ بن رہی ہے۔الحمد للہ علی ذلک آخر پر میں معلمین کرام کو ایک بار پھر متوجہ کرتا ہوں کہ آپ کا کام نہایت عظیم اور تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔اگر آپ نے خلوص قربانی اور محنت سے کام لیتے ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے ہوئے اس فریضہ کو سر انجام دیا اور نیک نمو نے قائم کئے اور نیک یادیں اپنے پیچھے چھوڑیں تو آنے والی نسلیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم