تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 241 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 241

تاریخ احمدیت۔جلد 27 241 سال 1971ء گئی۔الحمد للہ کہ اس کے بہت ہی خوش کن نتائج پیدا ہوئے اور آج تک وہاں ۹۲۵ ہند و اسلام قبول کر چکے ہیں اور دن بدن اسلام کی طرف ان کا رجحان بڑھ رہا ہے۔اس وقت ہمارے سامنے فوری مسئلہ نومسلمین کی فوری تربیت کا ہے جس کی طرف معلمین کو غیر معمولی توجہ دینی چاہیئے۔اس کے علاوہ اسلام کی طرف دیہات اور برادریوں کا بڑھتا ہوا رجحان یہ تقاضا بھی کرتا ہے کہ جلد از جلد صدیوں کی پیاسی روحوں کو اسلام کے میٹھے پانی سے سیراب کیا جائے اور شرک کے اندھیرے میں بھٹکنے والوں کو توحید کا نور عطا کیا جائے۔پس اگر ان دونوں پہلوؤں سے صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو معلمین کیلئے اتنازیادہ کام ہے کہ اگر وہ خلوص کے ساتھ وقف کی روح کوملحوظ رکھتے ہوئے کام کریں تو فی الحقیقت انہیں سر کھجانے کی بھی فرصت نہ ملے اس کے علاوہ دعاؤں کی ضرورت ہے اور خدا تعالیٰ سے محبت پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور ضرورت ہے اس بات کی کہ جن مظلوم قوموں کو معلمین وقف جدید کی وساطت سے از سر نو شرف انسانیت عطا ہو رہا ہے ان کو صرف انسان ہی نہیں بلکہ باخدا انسان بنایا جائے اور ان کا براہ راست تعلق ان کے رب سے دعا اور مناجات کا رشتہ قائم کر کے خود انہیں میں سے زندہ خدا کی ہستی کے زندہ گواہ بنائے جائیں جو مقصود تخلیق کا ئنات حضرت محمد مصطفی احمد مجتبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے سرشار اور اس پر ہر دم درود و سلام بھیجنے والے ہوں۔اس علاقہ میں قبل ازیں عیسائیوں نے امریکن امداد کی آڑ میں اپنے پاؤں جمانے کی کوشش کی۔خوراک اور دوسری اشیاء کا لالچ دے کر ان کو عیسائی بنانا چاہا لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکے کیونکہ ان کا یہ فعل ان لوگوں کو مادی امداد دے کر ان کی روحانیت کو خریدنا تھا۔لیکن اسلام اس کے برعکس انسان سے مادی قربانی لے کر اسے روحانی دولتوں سے مالا مال کرتا ہے اور شرف انسانی عطا کرتا ہے۔اسلام میں کسی کالے گورے امیر اور غریب کا امتیاز نہیں۔خدا تعالیٰ کے نزدیک وہی زیادہ مقرب ہے جو زیادہ متقی ہے اور وہی خدا کی محبت کا زیادہ حقدار ہے۔میٹھی میں قبول اسلام کی ابتدا سابق معلم مکرم نثار احمد مورانی نو مسلم کے زمانہ میں شروع ہوئی اور مکرم رشید احمد صاحب بھٹی نے بعد ازاں اس کام کو مزید آگے بڑھایا۔۔۔۔