تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 240
تاریخ احمدیت۔جلد 27 240 سال 1971ء یہ تجویز کی گئی کہ احمدی تربیت یافتہ کمپیوٹروں میں تحریک کی جائے کہ وہ اپنے آپ کو اس کام کے لئے وقف کریں۔اور اپنے خرچ پر ہندو علاقوں میں جا کر رہائش اختیار کریں۔جہاں طبی پریکٹس کے ذریعہ گزراوقات کا سامان کرنے کے ساتھ ساتھ تبلیغ اسلام کا کام بھی کرتے رہیں۔اس تحریک کے نتیجہ میں مکرم سعید احمد صاحب ابن مکرم چوہدری فیروز الدین صاحب انسپکٹر تحریک جدید نے اپنے آپ کو پیش کیا اور ضلع تھر پارکر سندھ کے ریگستانی علاقہ میں نہایت ہی مشکل اور نامساعد حالات میں کئی سال تک آنریری طور پر فریضہ تبلیغ ادا کیا۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے کہ اس نے ان کی اس قربانی کو مثمر با شمرات حسنہ فرمایا۔اور ۱۹۶۱ء میں پہلی مرتبہ اس علاقہ کی اچھوت اقوام جن کو ہندوؤں نے ظلم وستم کا نشانہ بنایا ہوا تھا۔اور ان کو ذلیل کرنے کے لئے اچھوت اقوام کا نام دیا ہوا تھا، چار دوستوں کو قبول اسلام کی سعادت نصیب ہوئی۔اس کامیابی کے نتیجہ میں وقف جدید کو وہاں ایک مرکزی بستی میں با قاعدہ مرکز کھولنے کی توفیق ملی۔جہاں ایک نو مسلم ہومیوڈاکٹر نثار احمد راٹھور کو بطور معلم مقرر کیا گیا۔اگرچہ اس مشن کے قیام کے بعد چند سال تک تو نہایت مایوس کن حالات کا سامنا کرنا پڑا اور مذکورہ نومسلمین کے ساتھ ان کے اعزاء واقارب کے انتہائی سخت اور نفرت آمیز سلوک سے ڈر کر مزید بیعتیں ہونا بند ہو گئیں۔تاہم وقف جدید نے نصرت الہی پر بھروسہ کرتے ہوئے وہاں کام بند کرنے کی بجائے اسے مزید تقویت دینی شروع کر دی۔اور مکرم مولوی محمد شریف صاحب کھو کھر معلم حلقہ نو کوٹ کو بھی وہاں نثار احمد کے ساتھ تمام علاقہ کے دورہ پر بھجوا دیا۔اس دورہ کی رپورٹ نہایت امید افزا تھی۔چنانچہ حضرت خلیفتہ اسیح کی ہدایت کے مطابق حالات کا بذات خود جائزہ لینے کیلئے اس عاجز نے بھی اس علاقہ کا دورہ کیا اور شدت سے محسوس کیا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بعض اچھوت اقوام اسلام کے بہت قریب آچکی ہیں۔اور بعید نہیں کہ ہم اس علاقہ میں يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا کا نظارہ بچشم خود دیکھ لیں۔چنانچہ اس دورہ کے بعد اس مشن کو اور آگے بڑھا کر دیہاتی علاقوں کو منتقل کر دیا گیا اور متعلمین کی تعداد بھی مستقل طور پر ایک کی بجائے تین کر دی