تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 239
تاریخ احمدیت۔جلد 27 احمد ب 239 یہ مشن ہاؤس رحیم یار خان کیلئے عدالتی حکم سال 1971ء رحیم یارخان محله قاضیاں والا کی مسجد شیخاں کے قریب احمدیوں نے اس سال ایک مشن ہاؤس بر کیا۔احمدی اس میں نمازیں ادا کرتے اور دوسرے جماعتی اور مذہبی امور انجام دیتے تھے۔جامع مسجد شیخاں والی کے پیش امام اور خطیب اور دیگر مدعیان کی درخواست پر چوہدری محمد نسیم ایڈمنسٹریٹر سول جج نے مشن ہاؤس میں احمدیوں کو نماز پڑھنے اور دیگر مذہبی امور سر انجام دینے کی ممانعت کر دی اور عدالتی حکم میں لکھا کہ مدعیان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ان کے اور دوسرے مسلمانوں کے بچوں کے جذبات اور مذہبی احساسات مجروح ہو رہے ہیں اور نقص امن اور بلووں کا خطرہ ہے اور اگر درخواست منظور نہ کی گئی تو انہیں نا قابل تلافی نقصان پہنچے گا۔57 نگر پارکر (سندھ) میں پہلے جلسہ سالانہ کا انعقاد مورخه ۲۷، ۲۸ نومبر ۱۹۷۱ء بروز ہفتہ اتوار نگر پارکر شہر میں پہلے جلسہ سالانہ کا انعقاد کیا گیا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے چاروں اطراف سے بیس بیس میل کا فاصلہ پیدل طے کر کے احباب جماعت اس میں شامل ہوئے۔اس جلسہ میں شمولیت کے لئے مولوی غلام احمد صاحب فرخ حیدر آباد سے اور مکرم شرافت احمد صاحب ربوہ سے تشریف لائے۔اس جلسہ میں احمدی احباب کے علاوہ نومسلم احباب نے بھی شرکت فرمائی۔58 اس موقع پر ( حضرت ) مرزا طاہر احمد صاحب ناظم ارشاد وقف جدید نے حسب ذیل پیغام ارسال فرمایا۔پیغام (حضرت) مرزا طاہر احمد صاحب المصلح و بسم اللہ الرحمن الرحیم حضرت اصلح الموعود کی دیرینہ خواہش تھی کہ ہندوؤں میں تبلیغ اسلام کی طرف خاص توجہ دی جائے۔چنانچہ اس عاجز کو بھی حضور نے بار ہا توجہ دلائی کہ وقف جدید کو اس طرف خاص توجہ دینی چاہیئے۔ان ہدایات کی روشنی میں ایسے علاقوں کے لئے معلمین کو جہاں ہندو اقوام پائی جاتی ہیں بار بار اس طرف توجہ دلائی جاتی رہی ہے لیکن ابتداء میں کوئی خاطر خواہ اور امید افزاء نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔چنانچہ ۱۹۶۰ء میں