تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 236 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 236

تاریخ احمدیت۔جلد 27 236 حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے طلبہ کیلئے زریں ارشادات سال 1971ء صاحبزادہ مرزا انس احمد صاحب تکمیل تعلیم کے سلسلہ میں انگلستان روانہ ہونے والے تھے۔اس موقعہ پر ۲۸ ستمبر کی شام کثیر احمدی احباب احاطہ دفتر پرائیویٹ سیکرٹری میں تشریف لا کر اجتماعی دعا میں شامل ہوئے۔دعا سے قبل حضرت خلیفتہ اسیح الثالث نے بیرونِ ملک اعلی تعلیم کے حصول کے لئے جانے والے طلبہ کی رہنمائی کرتے ہوئے فرمایا:۔وو عزیزم مرزا انس احمد صاحب۔مزید تعلیم کے لئے آکسفورڈ جارہے ہیں۔آپ کو اس لئے تکلیف دی ہے کہ ہم مل کر دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کو خیریت سے رکھے اور جو مقصد ایک احمدی متعلم کا ہے اس مقصد میں یہ کامیاب ہوں ( اللهم آمین) ہم باہر جا کر اس لئے تعلیم حاصل نہیں کرتے کہ وہاں کچھ صداقتیں ہیں جو ہمیں اسلام میں نہیں مل سکتیں ،صرف باہر جا کر ملتی ہیں۔بلکہ ہم اس لئے تعلیم حاصل کرنے جاتے ہیں کہ جن غلط باتوں کو وہ صداقتیں سمجھتے ہیں ان کا جواب کس طرح دیا جائے۔ان کے دماغوں سے گند اور جھوٹی اور خلاف حقیقت باتوں کو کس طرح دور کیا جائے اور ان سے ان کی کس طرح حفاظت کی جائے۔پس ایک احمدی منتعلم یعنی علم سیکھنے والے کا مقصد مذکورہ بالا ہے اور ہر احمدی مرتے دم تک متعلم ہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ کی قدرتوں کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا اور اگر انسان چاہے تو ہر دم اور ہر آن اپنے علم میں اضافہ کر سکتا ہے اور اسے کرنا چاہیے۔پس آؤمل کر دعا کر لیتے ہیں“۔اس کے بعد حضور انور نے حاضرین سمیت لمبی دعا کرائی۔53 تعلیم الاسلام کالج میں ڈاکٹر وزیر آغا کی تقریر ۱۳ اکتوبر ۱۹۷۱ء کو پاکستان کے نامور ادیب و نقاد ڈاکٹر وزیر آغا نے بزم اردو تعلیم الاسلام کالج ربوہ کے افتتاحی اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا:۔دم انجمنیں تو اور بھی ہیں اور قریب قریب ہر کالج نے اپنی نجی قسم کی بزم اردو قائم کر رکھی ہے جس کا کام زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ اپنے سابقہ پر نسپل کے تبادلہ کے موقع پر خوشی کا اظہار کریں یا نٹے پرنسپل کی آمد کے موقع پر خوشی کا اظہار کریں اور بس لیکن آپ کی اس بزم نے جو کار ہائے نمایاں انجام دیئے