تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 234 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 234

تاریخ احمدیت۔جلد 27 234 سال 1971ء ڈاکٹر سید صفدر حسین صاحب چیئرمین بورڈ انٹر میڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن سرگودھا کا خطاب ۲۹ مئی ۱۹۷۱ء کو تعلیم الاسلام کا لج ربوہ میں تقسیم اسناد و انعامات کی ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی جس میں چوہدری محمد علی صاحب ایم اے پر نسل تعلیم الاسلام کالج نے پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے تفویض کردہ اختیارات کی بناء پر بی ایس سی اور بی اے کے فارغ التحصیل طلباء کو اسناد عطا فرما ئیں جبکہ طالبات نے پردہ میں حضرت سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ حرم حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے دستِ مبارک سے انعامات حاصل کئے۔اس تقریب میں ملک کے نامور دانشور، ماہر تعلیم ، شاعر اور نقاد جناب ڈاکٹر سید صفدرحسین صاحب نے ایک مختصر جامع اور خیال انگیز خطاب میں کالج اور سر بر اہان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے فرمایا:۔” مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ آپ کا ادارہ ان برگزیدہ درسگاہوں میں سے ایک ہے جن میں قومی وملی جذبے سے سرشار ہو کر اہم خدمات سرانجام دی جارہی ہیں۔میری دانست میں اس تعلیم گاہ کی امتیازی حیثیت کا سہرا آپ کے مذہبی جوش و خلوص کے سر جاتا ہے۔یہ والہانہ خلوص آپ کے شہر کے در و دیوار، کوچہ و بازار اور مساجد و معابد کی تنظیم میں بھی رونما ہے لیکن آپ کے تعلیمی ادارے اس کے اظہار کا بہت اچھا نمونہ ہیں۔خصوصیت کے ساتھ یہ دانشکدہ جس میں آج مجھے آپ کے تخاطب کا شرف حاصل ہوا ہے آپ کی فکر بلند، روشن دماغی اور حسن تنظیم کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔مستحکم عمارتوں کی تعمیر ، پائیدار فرنیچر کی فراہمی ، سائنسی لیبارٹریز کے لئے اعلیٰ سامان کا حصول، لائبریری کے واسطے مفید کتابوں کی تلاش وغیرہ ایسے مراحل ہیں جن میں اگر تساہل برتا جائے یا طمع کو دخل دیا جائے تو ان سے تربیتی ادارے تعمیر کی بجائے تخریب کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔ایسی صورت میں منتظمین اور اساتذہ طلباء کے لئے مثالی اخلاق کا نمونہ نہیں بن سکتے۔آپ کے طلباء خوش نصیب ہیں کہ ان کی نفسیات کو ان مشکلات کا سامنا نہیں۔قدم قدم پر آپ کے ادارہ میں پائیداری، کفایت شعاری اور فراوانی آسائش کا احساس ہوتا ہے جس سے دل مطمئن اور دماغ آسودہ ہو جاتا ہے۔بجا کہ ملک کی