تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 233 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 233

تاریخ احمدیت۔جلد 27 233 سال 1971ء نا پسند کرتے ہیں کہ کروڑوں ڈالر کی رقم اس بات کے لئے خرچ کی جائے کہ چرچ کی عمارت باہر سے تو خدا کی عزت کے نام پر چمکتی ہولیکن اندر خدا کو یاد کرنے والا کوئی بھی نہ ہو۔ایک اور اخبار ڈسلڈورف ھینڈلس بلاٹ نے لکھا ہے۔کیا چرچ آخرت کے نام پر جوسرمایہ جمع کر رہا ہے وہ جائز ہے؟ چرچ اپنی عظیم عمارات اور دنیا دارا نہ ٹھاٹھ کی وجہ سے اب ایک دنیاوی تنظیم کی شکل اختیار کر چکا ہے۔“ ہمبرگ کے ایک پادری صاحب Edgar Spir نے موجودہ حالات پر حال ہی میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ” غالباً ہم اس وجہ سے چرچ سے دور ہوتے جا رہے ہیں کہ ہم دنیوی آرام و آسائش کی تو قدر کرتے ہیں لیکن یسوع مسیح کو بھول چکے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ عیسائیت اب شیطان کے لاڈلے بچے کی شکل اختیار کر چکی ہے۔“ بہت لوگ اب چرچ کو چھوڑتے جارہے ہیں۔کیونکہ وہ کسی ایسے ادارے کو خراج ادا کرنے کو تیار نہیں ہیں جس سے ان کو اتفاق نہیں ہے۔لیکن چرچ کی بالا دستی سے بچنے کی صرف ایک ہی راہ ہے کہ وہ با قاعدہ حکومتی کا غذات میں اپنے آپ کو عیسائی مذہب سے خارج کروائیں۔یہ بات یادرکھنے کے قابل ہے کہ چرچ سے بھاگنے کی وجہ صرف یہی نہیں ہے کہ چرچ کو ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ چرچ روحانیت سے خالی ہو چکے ہیں۔مثال کے طور پر ایک مشہور دینیات کی استانی ڈور تھی زوئل نے دعویٰ کیا ہے کہ ” خدا تعالیٰ نے جو کچھ بھی ماضی میں کیا ہے۔اس کو یا درکھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔اور حقیقت تو یہ ہے کہ جس کو ہم خدا کہتے ہیں وہ فوت ہو چکا ہے۔“ کیا اس قسم کی تعلیمات اور دعوؤں کے ہوتے ہوئے کوئی بھی عقلمند انسان عوام کو چرچ چھوڑنے کی وجہ سے مطعون کر سکتا ہے؟ نوجوانوں میں بالخصوص اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ چرچ کے پاس عوام کو دینے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے۔ایک اندازے کے مطابق Essen شہر کے ۲۵۰۰ طلباء میں سے ٪۷۰ نے کہا کہ ان کی زندگیوں میں اتوار کی عبادت اور خطبہ کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ایک ۱۷ سالہ نوجوان نے کہا 66 یوں محسوس ہوتا ہے گویا ہر اتوار کو ہم جنازہ میں شمولیت کے لئے جارہے ہیں۔50