تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 232
تاریخ احمدیت۔جلد 27 232 سال 1971ء 66 موجودہ زمانہ میں اس ملک میں پادریوں کے خطبات سنے کا کسی کو بھی کوئی شوق نہیں رہا ہے۔“ یہ ایک حقیقت ہے کہ اتوار کی صبح کو کلیساؤں میں کوئی بھی عبادت کے لئے نہیں جاتا اور گر جا گھر بالکل خالی ہوتے ہیں۔“ اس بات کے ثبوت میں کہ گرجے اتوار کی عبادت کے وقت خالی ہوتے ہیں۔جرمن رسالہ Stern نے فلیز برگ کے رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ فرقوں کے چرچوں کی ایتوار کی صبح کے عبادت کے وقت کی تصاویر شائع کی ہیں ان تصاویر کے اوپر جو عنوان لگایا گیا ہے، وہ یہ ہے۔د فلینز برگ شہر کے چرچوں میں پادری صاحبان خالی نشست گاہوں کو وعظ کر رہے ہیں، ایک اور اخبار ڈسل ڈورف ھینڈلس بلاٹ (Handelsblatt) نے اپنے ۲۰ جنوری ۱۹۷۰ء کے شمارہ میں لکھا ہے۔”جب سے کلیسیا نے دنیوی انداز اختیار کیا ہے۔اس کی اخلاقی اور روحانی حیثیت ختم ہو گئی ہے اسی وجہ سے اب زیادہ سے زیادہ لوگ چرچ کو خیر باد کہہ رہے ہیں۔“ برلن کے دینیات کے پروفیسر Guenther Harder نے تو چرچ کے دور خاتمہ کی پیشگوئی ان الفاظ میں کی کہ ایک عظیم طوفان آ رہا ہے جو ہم سے سب کچھ چھین کر لے جائے گا“ جرمنی کے کلیساؤں کے خلاف موجودہ رو کی ایک وجہ چرچ کے لئے چندہ جمع کرنے کا سسٹم بھی ہے۔جرمنی میں حکومت ٹیکس کے طور چرچ کے لئے چندہ جمع کرتی ہے۔اور آجکل ۱۰۰۰ ملین ڈالرز ہر سال بطور ٹیکس چرچ کے لئے عوام سے وصول کئے جاتے ہیں۔چونکہ چرچوں کو حکومت سے روپییل جاتا ہے اس لئے وہ اس بات کی پرواہ نہیں کرتے کہ عوام سے مضبوط تعلق قائم کریں۔چرچ میں با قاعدہ جانیوالوں میں سے ٪ ۳۲ آدم و حوا سے انکاری ہیں اور ٪ ۶۴ حضرت مسیح کے کنواری کے بطن سے پیدا ہونے سے منکر ہیں۔اور باوجود ان سب باتوں کے یہ لوگ چرچ کے باقاعدہ ممبر شمار ہوتے ہیں۔روپیہ پیسہ جمع کرنے کے شوق نے اس بات کی تحقیق کی ضرورت بھی ختم کر دی ہے کہ روپیہ کہاں سے آتا ہے اور تو اور کسی عورتیں اور اسی قماش کے لوگوں کو بھی چرچ میں خوش آمدید کہا جاتا ہے۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ ان کے اعمال نہایت گندے ہیں۔چرچ کے خلاف ایک محاذ اس وجہ سے بھی کھولا جا چکا ہے کہ چرچ کی پوری توجہ عوام کی دولت کو لوٹنے کی طرف ہے اخبار Frankfurter Rundschau نے لکھا ہے کہ عوام اس بات کو سخت