تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 14 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 14

تاریخ احمدیت۔جلد 27 14 سال 1971ء خدمت کرنے اور ان کے کام آنے کی سعادت حاصل کر سکوں۔تقریر کے دوران انہوں نے اپنے اس عزم اور عہد کو دہرایا کہ میں بلا تفریق رنگ و نسل اور مذہب و عقیدہ بنی نوع انسان کی خدمت کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کروں گا۔ڈاکٹر آفتاب احمد صاحب کے بعد پاکستانی ہائی کمشنر ہز ایکسی لینسی ایس اے معید صاحب نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے اپنے ہم وطنوں کے اس قابل قدر جذبہ کی تعریف کی کہ وہ اپنی زندگیاں، اپنے اوقات اور اپنی صلاحیتوں کو وقف کر کے بنی نوع انسان کی خدمات بجالا رہے ہیں اور ناموافق حالات اور مشکلات پر قابو پا کر ملکی مفاد کی خا طر حتی المقدور کوشش کر رہے ہیں اور اس طرح اہل غانا کو اعتماد اور یقین سے ہمکنار کرنے کا موجب ثابت ہورہے ہیں۔ہرایکسی لینسی نے اس موقع پر حاضرین کو پاکستان کے خلاف بھارت کی کھلی جارحیت سے بھی آگاہ کیا۔اس پر سامعین نے اپنے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ پاکستان کی سالمیت اور حفاظت کے لئے آئندہ بھی دعائیں جاری رکھیں گے۔ہز ایکسی لینسی نے جماعت احمدیہ کو اس امر پر خراج تحسین پیش کیا کہ اس نے اپنی انتھک اور بے لوث خدمات کے ذریعہ غانا اور پاکستان کے عوام کو ایک دوسرے کے قریب لانے اور ان کے درمیان بہتر مفاہمت کا جذبہ پیدا کرنے میں اہم کردارادا کیا ہے۔آنریبل محاما ثانی نائب وزیر زراعت حکومت غانا نے اپنی صدارتی تقریر میں اس امر کا خاص طور پر ذکر کیا کہ غانا میں اسلام کے از سر نو احیاء کا سہرا منفر د طور پر جماعت احمدیہ کی تبلیغی مساعی اور سرگرمیوں کے سر ہے۔آپ نے بتایا سویڈ رو کا شہر (جس میں احمد یہ ہسپتال کا قیام عمل میں آیا ہے ) پہلے ایک عیسائی شہر شمار ہوتا تھا لیکن اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس میں مسلمانوں کی ایک خاصی بڑی تعداد آباد ہے اور اسے پہلے کی طرح ایک عیسائی شہر شمار نہیں کیا جاتا۔آپ نے فرمایا جماعت احمد یہ نے تعلیم ، طب اور علاج معالجہ کے شعبوں میں گرانقدر خدمات بجالا کر بہت ناموری حاصل کی ہے۔اب اسے چاہیے کہ وہ غا نامیں زراعت کو فروغ دینے کے سلسلہ میں بھی ہاتھ بٹائے۔صدارتی تقریر کے بعد ہز ایکسی لینسی ایس اے معید صاحب ہائی کمشنر آف پاکستان نے فیتہ کاٹ کر ہسپتال کے باضابطہ افتتاح کا اعلان فرمایا۔بعد ازاں ہسپتال کے انچارج ڈاکٹر آفتاب احمد صاحب کی معیت میں ہز ایکسی لینسی اور دیگر سر بر آوردہ مہمانوں نے ہسپتال کے مختلف شعبوں کا معاینہ کیا۔19