تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 226 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 226

تاریخ احمدیت۔جلد 27 226 سال 1971ء کے مناسک ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔نماز ظہر و عصر جمع کر کے مسجد ذوالحلیفہ میں ہی ادا کی اور لبیک اللھم لبیک کہتے ہوئے ہم مکہ مکرمہ پہنچے۔میں نے یہاں مکان پہلے ہی کرایہ پر لے رکھا تھا۔ہم چاروں یعنی خاکسار اور میری اہلیہ، میرالڑ کا طاہر احمد اور اس کی اہلیہ پہلے گھر گئے ، سامان رکھ کر پھر بیت اللہ حاضر ہوئے۔چونکہ حضور کا یہ پیغام مجھے مل چکا تھا کہ غلبہ اسلام کے لئے دعائیں کی جائیں۔اس لئے بیت اللہ پر پہلی نظر پڑتے ہی سب سے پہلے غلبہ اسلام کے لئے اور حضور کی تائید و نصرت اور کامیابی کے لئے دعائیں کی گئیں۔اس کے بعد خانہ کعبہ کا طواف کیا۔باب ملتزم پر دعا کی۔مقام ابراہیم پر دو نفل ادا کئے۔آب زمزم پیا۔صفا کی طرف گئے۔صفا سے سعی شروع کی۔۷ چکر مروہ پر ختم کر کے پھر حضور کے لئے اور غلبہ اسلام کے لئے مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور حضور کے خاندان کے تمام افراد کے لئے اور واقفین سلسلہ کے لئے دعا کی گئی۔سرمنڈا کر احرام کھولا گیا۔یہ حضور کی طرف سے عمرہ ادا ہوا۔فالحمد للہ علی ذالک۔اس کے بعد ۴ فروری ۱۹۷۱ء بمطابق ۸ ذوالحج کا مبارک دن طلوع ہوا۔غسل کر کے احترام باندھا۔نماز فجر ادا کر کے اور خانہ کعبہ کا طواف کر کے منی کی طرف روانہ ہوئے اور جلد ہی وہاں پہنچ گئے۔وہاں ہمارے مرد ایک ٹینٹ میں مقیم ہوئے اور عورتیں دوسرے ٹینٹ میں۔ظہر، عصر، مغرب، عشاء کی نمازیں مٹی میں ادا کیں۔رات مٹی میں بسر کی۔۵ فروری ۹ ذوالج جمعہ کا دن تھا اور یوم الحج۔صبح کی نماز مٹی میں ادا کر کے عرفات کے لئے روانہ ہوئے۔وہاں عورتوں اور مردوں کی رہائش کے لئے علیحدہ ٹینٹوں کا انتظام تھا۔کسی نے بتایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حج کیا تھا تو اس روز بھی جمعہ کا دن تھا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اور عصر کی نماز جمع کر کے اور قصر کر کے ادا فرمائی تھی۔اس لئے ہم نے بھی جمعہ نہیں پڑھا بلکہ نماز ظہر عصر قصر کر کے ادا کی۔جمعہ کے حج کو حج اکبر کہتے ہیں۔اس دفعہ حج اکبر تھا۔اس لئے حضور کا حج بدل بھی حج اکبر تھا۔فالحمد للہ۔مغرب کے وقت عرفات سے روانگی ہوئی اور مزدلفہ پہنچے۔رات کھلے میدان میں مسجد مشعل الحرام کے پاس قیام کیا۔عجیب حشر کا سماں تھا اور عجیب ہی منظر تھا۔۶ فروری ۱۹۷۱ ء ۱۰ ذوالحج بروز ہفتہ مزدلفہ میں صبح کی نماز پڑھ کر مٹی روانہ ہوئے۔اگر چہ فاصلہ پانچ چھ میل کا تھا مگر ٹریفک کی زیادتی کی وجہ سے چار پانچ گھنٹوں میں مٹی پہنچے۔جمرة العقبی کو سات کنکر مار کر قربان گاہ گئے اور حضور کی