تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 227
تاریخ احمدیت۔جلد 27 227 سال 1971ء طرف سے قربانی دی۔سرمنڈوایا اور احرام کھولا۔میں نے اپنی طرف سے قربانی تیسرے روز ۱۲ ذوالحج کو دی۔فروری ۱۹۷۱ء ۱ از والج طواف زیارت کے لئے مکہ مکرمہ آئے۔طواف کعبہ اور صفا مروہ کی سعی کی گئی اور واپس منی آئے۔ظہر کے بعد تینوں جمروں کو ے۔ے کنکر مارے۔رات مٹی میں بسر کی۔۸ فروری ۱۹۷۱ء ۱۲ ذوالحج آج ظہر کے بعد تینوں جمروں کو ے۔ے کنکر مار کر واپس مکہ مکرمہ آئے۔الحمد للہ۔حج کے تمام مناسک اپنے اپنے وقت پر ادا ہوئے۔حضور سے دعا کی درخواست ہے کہ اگر میری کسی کمزوری اور غفلت کی وجہ سے مناسک کی ادائیگی میں کوئی کمی رہ گئی ہو تو اللہ تعالیٰ معاف فرما کر حضور کے حج بدل کو قبول فرمائے۔۸-۲-۷۱ سے ۷۱-۲-۱۴ تک مکہ مکرمہ میں قیام کیا۔طواف اور عمرے کرتا رہا۔ایک عمرہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کیا۔جس میں اسلام کے دوبارہ احیاء اور غلبہ کے لئے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم روحانی فرزند مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور حضور (انور ) کے ہاتھوں غلبہ اسلام کے لئے دعا کی گئی۔45 موٹر کار کے دو ایک المناک حادثات اور مخلص احمدیوں کی شہادت ۱۶ فروری ۱۹۷۱ء بروز منگل پنڈی بھٹیاں سے قریباً گیارہ میل کے فاصلہ پر موٹر کار کے ایک حادثہ میں چار نہایت مخلص احمدی یعنی چوہدری بشیر احمد صاحب ڈائریکٹر ماڈرن موٹر زلمیٹڈ راولپنڈی، ان کی اہلیہ رفیقہ بیگم صاحبہ، سردار بیگم صاحبہ اہلیہ چوہدری ظفر علی صاحب پریذیڈنٹ جماعت احمدیہ گکھڑ ضلع گوجرانوالہ اور کلثوم بیگم صاحبہ اہلیہ ڈاکٹر چوہدری منور احمد صاحب مرحوم آف ریاض سعودی عرب شہید ہو گئے۔انَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔موٹرکار میں سوار دیگر تین افرادنذیر بیگم صاحبہ اہلیہ چو ہدری محمد اشرف صاحب آف گھٹیالیاں ضلع سیالکوٹ نیز چوہدری ظفر علی صاحب پریذیڈنٹ جماعت احمد یہ گکھڑ ضلع گوجرانوالہ کی صاحبزادی فہمیدہ بیگم صاحبہ اور پوتی عزیزہ عائشہ بعمر ساڑھے تین سال کو شدید چوٹیں آئیں۔یہ تینوں مجروحین ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال سرگودھا میں بغرض علاج بھجوا دیئے گئے۔اس المیہ کا ایک اور دردناک پہلو یہ تھا کہ یہ سب افراد ڈاکٹر چوہدری منور احمد صاحب مرحوم ابن چو ہدری ظفر علی صاحب پریذیڈنٹ جماعت احمدیہ گکھڑ کے جنازہ کے ہمراہ گھڑ سے ربوہ آ رہے تھے۔چوہدری منور احمد صاحب مرحوم ۵ فروری ۱۹۷۱ء کو سعودی عرب میں حج بیت اللہ کی غرض سے