تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 222 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 222

تاریخ احمدیت۔جلد 27 جرمنی 222 سال 1971ء جماعت احمدیہ جرمنی کی طرف سے ۱۰۰ مارک کی رقم بطور امداد برائے سیلاب زدگان مشرقی پاکستان پاکستانی سفارت خانے کو بذریعہ چیک بھجوائی گئی۔37 نا پیجیریا جماعت احمد یہ نائیجیریا کی طرف سے مشرقی پاکستان کے مصیبت زدگان کے لئے ۱۱۰ پاؤنڈ کا 38 عطیہ پیش کیا گیا جود و اقساط میں پاکستانی ہائی کمشن مقیم نائیجیر یا میں جمع کروایا گیا۔28 مولویوں کے رویہ پر ایک غیر احمدی کے تاثرات روز نامہ مساوات لاہور کی ۲۲ جنوری ۱۹۷۱ ء کی اشاعت میں سید ریاض حسین صاحب کوٹ احمد یار تحصیل و تھا نہ چنیوٹ کا ایک مراسلہ شائع ہوا۔جو من وعن ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔” میرا سر ندامت سے جھکا جا رہا تھا مکرمی ان دنوں اخبارات میں مفتی محمود صاحب کے خلاف مرزائی سازش کے متعلق خوب قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔مجھے مفتی صاحب سے بڑی عقیدت ہے۔قادیانی جماعت کے سالانہ جلسہ کے مقابل ہماری کانفرنس چنیوٹ میں ہوئی اور میں شرکت کے لئے خاص طور پر چنیوٹ آیا۔میں شیعہ عقیدہ سے تعلق رکھتا ہوں۔۲۸ دسمبر کی رات کو مفتی صاحب کی چنیوٹ کا نفرنس میں تقریر تھی۔ان کے استقبال کے لئے میں بھی چوک کچہری گیا ہوا تھا۔میرا سر ندامت سے جھکا جا رہا تھا جب میں نے مشاہدہ کیا کہ مولوی صاحبان اور مدرسہ کے طلباء جو علم دین حاصل کرنے آئے ہوئے ہیں۔ربوہ کی طرف سے ہر آنے والی موٹر کار پر پتھر پھینکتے اور نعرے لگاتے رہے۔یہ کاریں غالباً مرزائیوں کی تھیں جو جلسہ ختم ہونے کے بعد واپس جا رہے تھے۔مجھے اس وقت مسلمان علماء پر رونا آرہا تھا۔دیکھتے دیکھتے انہوں نے ایک کار پر سخت پتھراؤ کیا اور اسے گھیرے میں لے لیا۔میں نے دیکھا کہ اس کار میں بچے عورتیں اور بوڑھے بھی تھے۔ان حملہ آور علماء نے کار میں سے ڈرائیور کو باہر کھینچنے کی کوشش کی۔کار پر کلہاڑیاں اور ڈنڈے بھی خوب چلائے۔پولیس افسر اپنے ماتحتوں کے ہمراہ موقع پر موجود تھا۔جس نے کار کو گھیرے میں لے کر ان محصورین کی حفاظت کی۔اس ہنگامہ کے بعد جب رات کو ہماری کانفرنس شروع ہوئی۔مجھے یقین تھا کہ مفتی محمود صاحب اس ہنگامہ آرائی کی سختی سے