تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 210 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 210

تاریخ احمدیت۔جلد 27 210 سال 1971ء اور مجلس انصار اللہ کے ناظم مال کے فرائض سر انجام دیتے رہے۔آپ تہجد گزار اور دعا گو بزرگ تھے اور تسبیح وتحمید اور درود شریف کا ورد خاص التزام کے ساتھ کیا کرتے تھے اور پر جوش داعی الی اللہ تھے۔110 مولوی مبارک احمد بھٹی صاحب مربی سلسلہ وفات: ۷ دسمبر ۱۹۷۱ء آپ چوہدری محمد علی صاحب کا رکن اراضی حضرت مصلح موعود سندھ کے صاحبزادے تھے۔۱۹۶۲ء میں ڈی سی ہائی سکول کنری سے میٹرک کا امتحان سیکنڈ ڈویژن میں پاس کیا۔جس کے بعد زندگی وقف کر کے جامعہ احمد یہ ربوہ میں داخلہ لیا۔شاہد کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ضلع گوجرانوالہ میں مربی مقرر کئے گئے۔مرکز کی ہدایت پر مجاہد فورس کی ٹرینگ کے لئے ربوہ تشریف لائے۔آپ ایک سال تک حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے ارشاد مبارک کے تحت مجاہد فورس ربوہ کمپنی میں شامل رہے۔قیام ربوہ کے دوران آپ کے دسمبر ۱۹۷۱ء کو دن کے ایک بجے دریائے چناب کے قریب ریلوے لائن عبور کر رہے تھے کہ ریل کار کے حادثہ میں شہید ہو گئے۔آپ اس وقت مجاہد کی وردی زیب تن کئے ہوئے تھے۔نہایت ہی دیانتدار، مخلص اور نیک سیرت نوجوان تھے اور خدمت دین کے علاوہ خدمت خلق اور ہمدردی خلق کے جذبہ سے سرشار تھے۔مجلس خدام الاحمدیہ کے کاموں میں بہت بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔نظام سلسلہ کا بہت احترام کرتے تھے۔۶۹-۱۹۶۸ء میں ہوٹل جامعہ احمدیہ کے زعیم منتخب ہوئے اور مجلس کی شاندار خدمات انجام دیں۔آپ کا شمار مجلس ربوہ کے بہترین زعماء میں ہوتا تھا۔مرحوم کو حق تعالیٰ نے خوش الحانی کے وصف سے بھی نوازا تھا۔عمدہ مقرر تھے اور آپ کی اکثر تربیتی تقاریر کا نقطه مرکز یہ عشق رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم تھا جس کی طرف آپ حاضرین کو خصوصی توجہ دلا یا کرتے تھے۔شب بیدار تھے اور زمانہ طالب علمی میں خصوصاً فجر کی نماز مسجد مبارک میں ادا کرنے کی کوشش کرتے تا حضرت خلیفتہ المسیح الثالث کی اقتدا میں نماز ادا کر سکیں۔حضور سے ایسا والہانہ تعلق تھا کہ ایک بار انہوں نے جامعہ کے ایک ساتھی سے پوچھا کہ کیا آپ نے انصار اللہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع کے آخری دن حضور کا اختتامی خطاب سنا ہے؟ جب انہیں معلوم ہوا کہ وہ کسی وجہ سے تقریر نہیں سن سکے۔ان سے کئی روز تک سخت ناراض رہے اور بہت غصہ کا اظہار کیا اور کہا مجھے افسوس ہے کہ تم حضور کی باتیں سننے سے محروم رہے ہو۔111