تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 209 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 209

تاریخ احمدیت۔جلد 27 209 سال 1971ء اور ۱۹۵۱ء تک اس منصب پر فائز رہے۔عمر کے آخر میں پاکستان تشریف لے آئے۔فیصل آباد میں وفات ہوئی اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں سپردخاک کئے گئے۔108 حکیم عبد العزیز صاحب امرتسری وفات: ۲۵ نومبر ۱۹۷۱ء ملکانہ تحریک تبلیغ کے فعال مجاہد تھے اور قرآنی معارف میں حضرت حافظ روشن علی صاحب کے شاگرد تھے۔آپ کا اوڑھنا بچھونا ہی دعوت الی اللہ تھا۔آریوں، عیسائیوں اور بہائیوں کے لئے شمشیر برہنہ تھے۔گفتگو نہایت مدلل کرتے تھے۔109 منشی محمد الدین صاحب امرتسری وفات : ۳ دسمبر ۱۹۷۱ء بعمر تقریباً ۹۰ سال منشی محمد الدین صاحب امرتسری، محمد عبد الحق صاحب مجاہد امرتسری سیکرٹری اصلاح و ارشاد گنج مغلپورہ کے والد ماجد تھے۔آپ لوگوں کا اصل وطن ریاست جموں تھا۔آپ کے مورث اعلیٰ کا نام دھنیت رائے تھا جو راجپوت خاندان کے ایک معزز فرد اور مہاراجہ کشمیر کے دربار میں کرسی نشین تھے مگر اسلام قبول کرنے کی پاداش میں آپ کو ریاستی قانون کے تحت ریاست بدر کر دیا گیا اور آپ پنجاب آگئے ان کی اولا د گوجرانوالہ، گورداسپور اور ہوشیار پور میں پھیل گئی۔منشی محمد الدین صاحب سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کا شوق لئے اپنے چاچوہدری اللہ رکھا صاحب کے ساتھ ۱۶ فروری ۱۹۰۵ء کو عید الاضحیہ کے موقع پر قادیان پہنچے۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رومی ٹوپی پر دستار مبارک باندھی ہوئی تھی۔انہوں نے بیعت کی درخواست کی لیکن اعلان کیا گیا کہ حضرت اقدس کی طبیعت ناساز ہے آج بیعت نہیں ہوگی جس پر آپ بغیر بیعت کے ہی واپس آگئے لیکن پھر حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کے ہاتھ پر بیعت کر کے سلسلہ احمدیہ میں شمولیت کر لی۔۱۹۰۹ ء سے ۱۹۴۵ ء تک امرتسر میں ملازم رہے اور یہیں ریٹائرڈ ہوئے۔۱۹۳۲ء میں آپ کے ذریعہ بھو ماں وڈالہ ضلع امرتسر میں جماعت قائم ہوئی اور تقسیم ہند تک آپ اس کے پریذیڈنٹ رہے۔آپ ہر جمعہ قادیان میں پڑھتے تھے۔پاکستان میں آکر آپ کا معمول ہو گیا کہ سال کا چندہ پیشگی ادا کر دیا کرتے تھے۔سالہا سال تک جماعت احمد یہ گنج مغلپورہ کے سیکرٹری وصایا