تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 208
تاریخ احمدیت۔جلد 27 208 سال 1971ء ہوئے۔آپ کو تبلیغ کا بھی بہت شوق تھا۔بیماری کے باوجود بھی کتابیں خریدتے اور بڑے لمبے لمبے تبلیغی خطوط بڑے بڑے آفیسروں کو لکھتے رہتے۔لاہور کے ہسپتالوں میں زیر علاج رہے وہاں بھی مریضوں کے علاوہ ڈاکٹروں کو بھی تبلیغ جاری رکھتے۔آپ نے ۱۲ نومبر ۱۹۷۱ء کو ایک لمبی بیماری کے بعد وفات پائی۔105 چوہدری عبدالمومن خاں صاحب کا ٹھر گڑھی وفات : ۱۲ نومبر ۱۹۷۱ء حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت چوہدری عبدالسلام خاں صاحب کا ٹھگر بھی کے فرزند تھے۔۱۹۳۵ ء سے ۱۹۵۴ء تک حضرت مصلح موعود کی اراضیات ناصر آباد (سندھ) میں نہایت فرض شناسی سے اکاؤنٹنٹ کے فرائض بجالاتے رہے۔بہت نیک اور عابد وزاہد انسان تھے۔106 قریشی عبدالعزیز صاحب وفات: ۱۵،۱۴ نومبر ۱۹۷۱ء قریشی عبد العزیز صاحب، قریشی عبدالرشید صاحب ایڈووکیٹ سابق وکیل المال تحریک جدید کے والد ماجد تھے۔۱۹۳۳ء میں بذریعہ خواب صداقت احمدیت کا انکشاف ہوا جس پر فی الفور حضرت مصلح موعود کے دست مبارک پر بیعت کر لی۔۱۹۵۰ء میں مقیم ربوہ ہوئے۔ربوہ کے سب سے پہلے پرائیویٹ میڈیکل پریکٹیشنر تھے حتی الامکان سستا علاج کرتے اور مریض کو تسلی دیتے۔ربوہ اور اس کے ماحول کے غرباء میں خاص طور پر بہت مقبول تھے۔107 شیخ دوست محمد صاحب شمس وفات :۱۶ / ۱۷ نومبر ۱۹۷۱ء ۱۹۲۴ ء میں احمدیت قبول کی۔بغرض کا روبار عرصہ دراز تک کلکتہ میں رہے اور مخلصانہ خدماتِ سلسلہ بجالانے میں سرگرم عمل رہے۔۱۹۴۴ء میں مسجد احمدیہ کلکتہ کی تعمیر کی تجویز ہوئی تو آپ نے اس پر پر جوش لبیک کہا اور پانچ ہزار روپے پیش کئے۔تقسیم ملک (۱۹۴۷ء) پر جب چوہدری انور احمد صاحب کا ہلوں امیر جماعت کلکتہ مشرقی پاکستان منتقل ہو گئے تو آپ امیر جماعت احمد یہ مقرر ہوئے