تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 207
تاریخ احمدیت۔جلد 27 207 سال 1971ء فوراً تعلیم الاسلام کالج قادیان میں کام کرنے کا ارشاد فرمایا۔پھر جلد ہی ہجرت کا دور دورہ ہوا۔پاکستان ہجرت کے بعد آپ کو حضور کے ارشاد کی تعمیل میں دفتر امانت صدر انجمن احمد یہ میں کام کرنے کا موقع ملا۔قیام ربوہ کے دوران جب حضرت مصلح موعود کچے مکانوں میں تشریف لے آئے تو آپ کو حضور کا امانت ذاتی کا حساب پیش کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔اور اس طرح آپ کو حضور کی صحبت میں بھی دیر تک حاضر رہنے کا موقع ملتا رہا۔ان خوش قسمت ایام کا ذکر کر کے آپ کا چہرہ خوشی سے روشن ہو جایا کرتا۔اس دوران تحریک جدید کی زمینوں پر نور نگر فارم میں ایک اکاؤنٹنٹ کی فوری ضرورت پیش آئی۔حضرت مصلح موعود چونکہ آپ کے کام سے خوب واقف تھے۔اس لئے آپ کا انتخاب کیا اور پھر حکم دیا کہ چوبیس گھنٹے کے اندر اندر روانہ ہو جائیں۔چنانچہ اس ارشاد کی تعمیل میں آپ ۲۹ نومبر ۱۹۵۴ء کو سندھ جا پہنچے۔جہاں آپ کو مفوضہ فرائض خوش اسلوبی سے سرانجام دینے کے ساتھ ساتھ جماعت کا سیکرٹری مال اور مجلس خدام الاحمدیہ کی قیادت کرنے کی توفیق ملی۔نیز وہاں کی جماعت کی نمائندگی مجلس مشاورت کے موقع پر کئی بار کرنے کی سعادت ملی۔مکرم مولوی محمد اسماعیل صاحب منیر برادر محمد الحق انور صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ محمد اسحق صاحب انور کا خلیفہ وقت سے محبت کا جذبہ عشق کے درجہ تک پہنچا ہوا تھا۔صحت کے ایام میں تو اس کا اظہار مختلف ذرائع سے کیا ہی کرتے تھے مگر جب بیمار ہوئے تو حضرت مصلح موعود کی صحت کے لئے دوائیں بنانا اور دعائیں کرنے کا انہیں جنون سا ہو گیا تھا۔عام نمازوں کے علاوہ تہجد میں بعض دوستوں کو بھی شامل کر لیتے۔اور اتنی لمبی دعائیں کرتے کہ بعض دفعہ ساتھی برداشت نہ کر سکتے۔اکثر کوئی نہ کوئی دوائی تیار کرتے اور میرے سپرد کرتے کہ اسے حضرت صاحب کی خدمت میں پہنچا دوں۔اور ساتھ ہی اس یقین کا اظہار کرتے کہ اس دوائی سے ضرور حضور کو صحت کاملہ ہو جائے گی۔۱۹۶۳ء کی گرمیوں میں کوئٹہ گئے وہاں سے لوہے کا ہاون دستہ خرید لائے تا حضور کے لئے دوائی تیار کرنے میں آسانی رہے۔آپ فالج کے مریض تھے۔آخری چند سالوں میں چلنا پھرنا بھی مشکل تھا مگر پھر بھی خلیفہ وقت کی ملاقات کا بے حد شوق تھا۔جون ۱۹۷۰ء میں حضرت خلیفۃ اسیح الثالث مغربی افریقہ کے کامیاب دورہ سے واپس تشریف لائے تو حضور سے ملنے کے لئے کئی بار کوشش کرتے۔مگر لڑ کھڑا کر گر جاتے۔آخر ایک دن پروگرام بنا کر خاکسار سائیکل پر بٹھا کر لایا اور قصر خلافت اور مسجد کے درمیان کرسی پر بٹھایا۔حضور انور نماز کے لئے تشریف لائے تو ملاقات ہو گئی۔جس سے بے حد خوش