تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 206 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 206

تاریخ احمدیت۔جلد 27 206 سال 1971ء حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے از راہ شفقت آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور شہداء کے قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔102 حاجی عبد العظیم میمن صاحب وفات : ۶ نومبر ۱۹۷۱ء حاجی عبد العظیم صاحب میمن ، نے 4 نومبر ۱۹۷۱ء کو بعمر ۶۱ سال بمقام ڈھا کہ وفات پائی۔آپ ۱۹۱۰ء میں کچھ میں پیدا ہوئے۔آپ کو اپنے سسر مکرم سیٹھ عبدالستار صاحب میمن اور اپنی رفیقہ حیات مکرمہ عائشہ بیگم صاحبہ کی معرفت احمدیت کی روشنی پہنچی۔طبیعت نیک تھی بالآخر ۱۹۵۶ء میں اپنی اہلیہ کے ساتھ ربوہ پہنچے اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے دست مبارک پر بیعت کر کے حلقہ بگوش احمدیت ہو گئے۔میمن خاندان کے زیادہ لوگ دین کے بارہ میں بڑے ہی کٹر اور تقلید پسند ہیں لیکن حاجی عبد العظیم صاحب نے خاندانی روایات ، رسومات اور تقلید پسندانہ خیالات کی پرواہ کئے بغیر جواں مردی کے ساتھ حق و صداقت پر قدم مارا اور آخر دم تک نہایت ثابت قدمی کے ساتھ حق و صداقت پر قائم رہے۔آپ نے ایک بیٹا اور ایک بیٹی بطور یادگار چھوڑے۔103 رقیه خاتون صاحبه وفات: ۹ نومبر ۱۹۷۱ء حضرت صوفی مولا بخش صاحب کی بہو اور شیخ محمد اسحاق صاحب آف لاہور کی اہلیہ تھیں۔صاحب رؤیا تھیں۔لجنہ اماءاللہ کے ابتدائی زمانہ میں بہت کام کیا۔درس قرآن بھی دیتی تھیں۔104 محمد اسحق انور صاحب وفات: ۱۲ نومبر ۱۹۷۱ء محمد اسحق انور صاحب حضرت سیٹھ فضل کریم صاحب صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صاحبزادے اور مولوی محمد اسماعیل صاحب منیر کے بھائی تھے۔آپ تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان کے طالب علم تھے۔اور پاکستان بننے سے قبل اس سکول سے میٹرک پاس کرنے والے آخری گروپ میں سے ایک تھے۔آپ کو بچپن سے ہی خدمت سلسلہ کا شوق تھا۔آپ نے اپنی زندگی وقف کرنے کی درخواست حضرت مصلح موعود کو مارچ ۱۹۴۷ء میں بھجوائی۔میٹرک کا نتیجہ نکلنے پر حضور نے آپ کو