تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 205 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 205

تاریخ احمدیت۔جلد 27 205 سال 1971ء داخل تھے تو حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے اپنے عرصہ قیام اسلام آباد میں دو مرتبہ اپنے مخلص خادم کی عیادت فرمائی اور اپنی شفقت اور ذرہ نوازی سے عزت افزائی کی۔99 خان فضل محمد خان صاحب وفات: ۲۸/اکتوبر ۱۹۷۱ء ۱۹۱۴ ء میں جبکہ آپ کی عمر ۲۱ سال تھی داخل احمدیت ہوئے۔آپ کا شمار جماعت احمد یہ شملہ کے اولین معماروں میں ہوتا ہے۔اپنی سرکاری ملازمت کے دوران شملہ، دہلی اور کانپور میں مقیم رہے اور ایک فدائی اور غیور احمدی کی حیثیت سے سلسلہ احمدیہ کی نہایت قابل قدر خدمات انجام دیں۔آپ کی پوری زندگی تبلیغ سے عبارت تھی۔پیغام احمدیت ہر قریہ اور ہر گھر تک پہنچانا آپ کی زندگی کا مقدس مشن تھا۔حتی کہ سفر آخرت پر روانگی سے قبل جس آخری شخص سے بات کی اس کا موضوع بھی تبلیغ احمدیت ہی تھا۔زبان شیریں، پاکیزہ ، شستہ اور انداز گفتگو بہت دلنشین تھا۔مدلل ، پر جوش اور فصیح و بلیغ کلام میں اپنی نظیر آپ تھے۔آپ کے ذریعہ بہتوں کو قبول حق کی سعادت نصیب ہوئی۔100 ست بھرائی صاحبہ وفات:۲۹/اکتوبر ۱۹۷۱ء ست بھرائی صاحبہ میاں غازی احمد صاحب آف پیر کوٹ ثانی ضلع حافظ آباد کی اہلیہ تھیں۔آپ اوائل شباب میں احمدیت کے نور سے منور ہوئیں۔آپ نے اپنی ساری عمر تقویٰ اور پر ہیز گاری میں گزاری۔ایک موقع پر مقامی مسجد کی تعمیر کے لئے چندہ کی تحریک ہوئی تو آپ نے اپنا سارا زیوراس نیک کام میں دے دیا۔ذکر الہی آپ کا بہترین مشغلہ تھا۔بہت ہی متوکل خاتون تھیں۔آپ نے ۲۹ اکتوبر ۱۹۷۱ء کو بعمر ۹۰ سال وفات پائی۔101 ملک حبیب اللہ خاں صاحب وفات : ۲ نومبر ۱۹۷۱ء ملک حبیب اللہ خاں صاحب، ملک نصر اللہ خاں صاحب نیلا گنبد لاہور کے بیٹے اور عبدالستار خادم صاحب گوجرانوالہ کے داماد تھے۔آپ ڈھا کہ میں بحیثیت لائن سپرنٹنڈنٹ الیکٹریسٹی واپڈا متعین تھے۔بعمر ۳۰ سال اپنے فرائض کی سرانجام دہی کے دوران شہید ہوئے۔۲ نومبر ۱۹۷۱ء کو