تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 199 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 199

تاریخ احمدیت۔جلد 27 199 سال 1971ء قوم میں یہ نمایاں فرق اس لئے ہے کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی غلامی اختیار کی۔آپ کچھ عرصہ ہائی بلڈ پریشر کے باعث علیل رہے اور ۳ جون ۱۹۷۱ء کو وفات پائی۔86 را دن یوسف صاحب انڈونیشیا وفات : ۱۴ جون ۱۹۷۱ء را دن یوسف صاحب انڈونیشیا کی سرزمین میں حضرت خلیفہ امسیح الثانی کے ابتدائی ایام خلافت میں حضرت مولانا رحمت علی صاحب صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ احمدیت کی غلامی میں شامل ہوئے۔آپ انڈونیشیا کی جماعت کے ایک فعال رکن ، نامور خادم اور جماعت احمد یہ بوگور کے صدر تھے۔آپ کی آنریری تبلیغی مساعی سے اس خطہ ارض کے کئی مقامات پر جماعت ہائے احمدیہ کا قیام ہوا۔آپ ایک تہجد گزار اور متدین انسان تھے۔آپ جون ۱۹۷۱ء کو ۶۱ سال کی عمر میں دل کی بیماری کی وجہ سے انتقال کر گئے۔87 شیخ ارشد علی صاحب ایڈووکیٹ سیالکوٹ وفات : ۱۵ جون ۱۹۷۱ء شیخ ارشد علی صاحب صحابی ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام شیخ حمد علی صاحب ( موضع دھرم کوٹ بگہ تحصیل بٹالہ) کے صاحبزادے اور صاحب کشف ورڈ یا بزرگ تھے تقسیم ملک تک بٹالہ میں پریکٹس کرتے رہے۔آپ کا معمول تھا کہ سارا ہفتہ پریکٹس کرتے اور اتوار کو حضرت مرزا عبدالحق پلیڈر گورداسپور اور میاں عطاء اللہ صاحب وکیل امرتسر کے ہمراہ قادیان پہنچ جایا کرتے۔نومبر ۱۹۳۷ء میں حضرت ماسٹر عبدالرحمن صاحب کے خلاف پمفلٹ بابا نانک رحمتہ اللہ کا دین دھرم کی بناء پر مجسٹریٹ بٹالہ کی عدالت میں مقدمہ ہوا جس کی آپ نے مفت پیروی کی۔ہجرت کے بعد آپ نے وفات تک سیالکوٹ میں قیام رکھا اور جماعت میں قاضی ،سیکرٹری اصلاح و ارشاد اور مشیر قانونی کے طور پر خدمات بجالاتے رہے۔آپ کی وفات پر سیالکوٹ بارایسوسی ایشن نے تعزیتی قرار داد منظور کی اور ۱۹ جون ۱۹۷۱ ء کو مقامی عدالتیں بند رہیں۔88 صفیہ بانو صاحبہ وفات : ۲۰ جون ۱۹۷۱ء