تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 198 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 198

تاریخ احمدیت۔جلد 27 198 سال 1971ء رشیدہ بیگم صاحبه وفات : ۱۸ مئی ۱۹۷۱ء رشیدہ بیگم صاحبہ مولانا چراغ الدین صاحب مربی سلسلہ کی اہلیہ محترمہ تھیں۔آپ نے ۱۸ مئی ۱۹ ءکو وفات پائی۔مرحومہ نیک اور عبادت گزار خاتون تھیں۔آپ کے خاوند چونکہ اکثر تبلیغی دورے پر رہتے اس دوران مرحومہ ہی گھر کے کاموں کا بوجھ اٹھا تیں۔آپ نے اپنے پیچھے ۳ بیٹے اور ۵ بیٹیاں چھوڑیں۔85 عارف نعیم صاحب وفات : ۳ جون ۱۹۷۱ء عارف نعیم صاحب سائپرس کے رہنے والے ترک تھے۔نوجوانی میں سیر و سیاحت کرتے ہوئے انگلستان آئے اور پھر انگلستان کے ہی ہو کر رہ گئے۔یورپ میں رہنے کے باوجود یورپ کی لغویات سے محفوظ رہے۔آپ پہلے پہل جناب جمالی (ایک ترک احمدی) کے ساتھ مسجد تشریف لائے۔یہ سلسلہ جاری رہا۔احمدیت یعنی حقیقی اسلام سے اس قدر متاثر ہوئے کہ آخر محترم چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ امام مسجد فضل لندن کی تبلیغ اور حسن سلوک کے نتیجہ میں احمدیت قبول کی۔آپ کی پرکشش طبیعت اور ایثار و قربانی سے متاثر ہو کر عارف صاحب کے دل میں بھی تڑپ پیدا ہوئی اور یہ عزم اور ارادہ لے کر آپ کچھ عرصہ کے لئے دینی تعلیم حاصل کرنے کے لئے ربوہ تشریف لائے۔آپ کی دلی خواہش تھی کہ دینی تعلیم حاصل کر کے اپنی قوم تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پیغام پہنچا ئیں۔اس غرض کے لئے مرکز سلسلہ میں تقریباً تین سال تک رہے۔آپ کی شادی پاکستان میں سیدنا حضرت خلیفہ اُسیح الثانی کی تحریک پر ہوئی۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب بھی آپ سے بڑی محبت فرماتے تھے۔شادی کے کچھ عرصے بعد ا پنی اہلیہ اور بچے کو ساتھ لیکر انگلستان واپس چلے گئے۔آپ کا تعلق جماعت سے ہمیشہ مضبوط رہا اور اپنے عزیزوں اور ہم وطنوں کو جب بھی موقع ملا اسلامی احکامات اور اسلام کی خوبیوں اور ممنوعات کے بارہ میں پر جوش طریق پر اپنی زبان میں تبلیغ کرتے تھے۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ مجھ میں اور میری