تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 197 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 197

تاریخ احمدیت۔جلد 27 بشیر احمد چغتائی صاحب وفات: ۱/۳۰،۲۹ پریل ۱۹۷۱ء 197 سال 1971ء مکرم بشیر احمد صاحب چغتائی نے مورخہ ۱/۳۰،۲۹ پریل ۱۹۷۱ ء کی درمیانی شب کو بعمر ۶۱ سال وفات پائی۔آپ موصی تھے۔یکم مئی ۱۹۷۱ ء کو حضرت خلیفتہ اسیح الثالث نے باوجود علالت طبع کے از راہ شفقت نماز جنازہ پڑھائی جس میں مقامی احباب کثیر تعداد میں شریک ہوئے۔آپ کی تدفین بہشتی مقبرہ میں عمل میں آئی۔آپ ۱۹۱۰ء میں پیدا ہوئے۔کالج کے زمانہ میں احمد یہ ہوٹل لاہور سے تعلق رہا۔محترم ملک عبد الرحمن خادم صاحب کے عزیز دوستوں میں سے تھے اور انہی کی وساطت سے قبول احمدیت کی توفیق ملی۔آپ نے ۱۹۳۵ء میں بیعت کی اور آخر دم تک سلسلہ اور خلافت سے اپنی گہری وابستگی کو قائم رکھا۔آپ ایک طویل عرصہ تک جماعت احمد یہ جمشید پور ( ٹاٹانگر ) کے صدر رہے۔عرصہ دس سال تک واہ کینٹ کی جماعت کے پریذیڈنٹ رہے۔آپ نے واہ کینٹ مسجد احمدیہ کی تعمیر کے سلسلہ میں نمایاں خدمات سرانجام دیں۔83 عبدالرشید صاحب وفات : ۱۶ مئی ۱۹۷۱ء عبدالرشید صاحب ماسٹر محمد شفیع اسلم صاحب کے برادر اصغر تھے۔آپ ۱۹۲۰ء میں قادیان تشریف لاۓ۔اور قادیان کی روحانی فضا سے متاثر ہو کر حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے دور میں بیعت کی سعادت حاصل کی۔جب شدھی کی تحریک شروع ہوئی تو آپ بھی میدان ارتداد میں تبلیغ کے لئے گئے اور دوسال مسلسل بڑی تکلیفیں اٹھا کر کام کرتے رہے۔ایک سالم گاؤروں کو اپنی کوششوں سے شدھ ہونے سے بچا لیا۔باقی مجاہدین کے ساتھ آپ نے بھی حضرت خلیفہ اسیح الثانی سے خوشنودی کا سرٹیفیکیٹ حاصل کیا۔آپ نے قریباً ساری عمر غربت میں بسر کی۔اور بڑے صبر اور دینداری سے زندگی کے دن گزارے۔تقسیم ملک کے بعد کچھ عرصہ گوجرانوالہ میں اور اس کے بعد قریبا ۲۰ برس گوکھو وال متصل لائلپور (فیصل آباد) میں مقیم رہے۔آپ نے ۱۶ مئی ۱۹۷۱ء کو ۷۲ سال کی عمر میں وفات پائی۔84