تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 195 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 195

تاریخ احمدیت۔جلد 27 195 سال 1971ء آپ کو مرے کالج سیالکوٹ میں داخل کرا دیا جس سے فارغ ہونے کے بعد میڈیکل کالج لاہور سے آپ نے ڈاکٹری کی تعلیم مکمل کی۔۱۹۲۲ء میں آپ کو فوج میں کمیشن ملا اور دورانِ ملازمت آپ کو افریقہ میں شاندار طبی خدمات انجام دینے کی توفیق ملی۔۱۹۲۸ء میں آپ نے فوج سے علیحدگی اختیار کی اور کا نپٹی شہر ( ناگپور بھارت) میں عرصہ دراز تک سرکاری ملازم رہے۔بارہ سال تک وہاں آپ بھی میونسپل کمشنر رہے اور آپ کی بیوی بھی۔خدا تعالیٰ نے آپ کو حضرت خلیفہ اول کی دعاؤں کی برکت سے اعلیٰ عہدوں، فراخی رزق اور صالح اولاد سے نوازا۔ہجرت کے بعد کراچی آباد ہو گئے۔اپنے مطب کے بورڈ پر نمایاں طور پر اپنے نام کے ساتھ احمدی لکھوایا ہوا تھا۔۱۹۵۳ء میں جبکہ شر پسند عناصر سرگرم عمل تھے آپ کو بورڈ سے ”احمدی“ کا لفظ مٹا دینے کا پرزور مشورہ دیا گیا لیکن اس مرد مومن نے کسی خطرہ کی پرواہ کئے بغیر یہ نام قائم رکھا۔لوگ آپ کے حسن اخلاق سے بہت متاثر تھے اور علاج کے لئے کھنچے چلے آتے تھے۔آپ کی خوبی تھی کہ علاج کے ساتھ تبلیغ کا سلسلہ بھی جاری رکھتے تھے۔بہت نافع الناس وجود تھے کئی سعید روحوں کی ہدایت کا باعث بنے۔آپ نے پوری زندگی ایک فدائی اور غیور احمدی کی طرح بسر کی اور ہر جگہ اپنے احمدی ہونے کا برملا اظہار کیا۔80 سلیمہ بیگم صاحبہ وفات : ۳/اپریل ۱۹۷۱ء سلیمہ بیگم صاحبہ اہلیہ مرزا ارشد بیگ صاحب آف سرگودھا نے دل کا دورہ پڑنے سے ۱/۳ پریل ۱۹ کو وفات پائی۔آپ حضرت مرزا احسن بیگ صاحب کی بیٹی تھیں جو کہ محدی بیگم صاحبہ اہلیہ مرزا سلطان محمد صاحب کے خالہ زاد اور بہنوئی بھی تھے۔آپ حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے بہت قریبی دوستوں میں سے تھے۔آپ کے تین صاحبزادے اور تین صاحبزادیاں تھیں۔81 ہاجرہ بیگم صاحبہ المعروف ” آپوجی وفات : ۲۹ را پریل ۱۹۷۱ء محترمہ باجرہ بیگم صاحبه خواجہ غلام احمد صاحب امرتسری کی اہلیہ تھیں۔آپ ۱۸۹۴ء میں سکھو چک میں پیدا ہوئیں۔آپ اپنے والدین کی سب سے آخری اور نویں لڑکی تھیں۔اس زمانہ کے رواج کے مطابق آپ کی پیدائش پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔لیکن یہ خدا کی قدرت تھی کہ احمدیت کے نور سے