تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 187
تاریخ احمدیت۔جلد 27 وه و۔187 سال 1971ء نے وہ نئی جوتی پہن لی۔اسی دن حاجی صاحب نے قریبی شہر قلعہ کالر والا سے گھوڑی پر سوار ہو کر ننگے پاؤں جا کر نئی جوتی خرید کی۔رحمت مسیح نے بتایا کہ جب ہمارے پاس کھانے کے لئے غلہ نہیں ہوتا تو ے دیتے ہیں اگر کوئی غلہ کی قیمت وعدہ کے مطابق ادا نہ کر سکے اس پر سختی بھی نہیں کرتے۔جو شخص غرباء کا اس حد تک مددگار ہو اس کا کام ہم غریب لوگ پہلے کریں گے اور حاجی صاحب جیسا غریب پرور اس گاؤں میں اور کوئی نہیں۔اسی نوعیت کا ایک اور واقعہ بھی ہے کہ گندم کی کاشت کا موسم تھا۔اس دن اپنے بیلوں کے علاوہ دس جوڑے بیلوں کے گندم کی کاشت کے لئے کچھ اپنے مزار عین کے اور کچھ دوستوں کے منگوائے ہوئے تھے۔اس وقت تک مشینی کاشت شروع نہیں ہوئی تھی۔بیلوں سے ہی کاشت ہوتی تھی۔ایک غریب احمدی ہمارے گھر آیا ( اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم احسان سے اس احمدی کی اولاد بڑے اچھے کام کر رہی ہے اور غربت کا ان کے ہاں اب نام و نشان نہیں ) اور مجھ سے جھونا ( چاول کی قسم) کی قیمت دریافت کی۔میرے بتانے پر وہ رو پڑا۔اس کی آواز جب والد صاحب نے سنی تو وہ آگئے اور اس سائل سے دریافت کیا کہ تم کیوں رور ہے ہو۔اس نے جواب دیا کہ میں نے چھوٹے چوہدری ( یعنی مجھ سے جھونے کے دھان کی قیمت دریافت کی انہوں نے قیمت بتائی۔میرے پاس قیمت ادا کرنے کے لئے کچھ بھی نہیں اور میرے بچے پرسوں سے بھوکے ہیں۔والد صاحب اسی وقت اندر گئے۔میری والدہ ماجدہ نے گندم کاشت کرنے والوں کے لئے اس وقت تک دس بارہ پر اٹھے پکائے ہوئے تھے۔والد صاحب وہ کپڑے میں لپیٹ کر لے آئے اور اس سائل کو دے کر کہا کہ فوراً دوڑ کر یہ پراٹھے اپنے بچوں کو دے کر واپس آؤ تو محمد اسحق تمہیں دھان بھی دے دے گا۔اس کے جانے کے بعد مجھے حکم دیا کہ اس سائل کے آنے پر اسے ایک من دھان مفت دے دینا میں نے حکم کی تعمیل کی۔ایک اور واقعہ یاد آیا۔ایک عادی چور ہماری حویلی میں آکر اس چار پائی کی پائنتی پر بیٹھ گیا جہاں والد صاحب لیٹے ہوئے تھے۔والد صاحب نے اس سے دریافت کیا کہ مجھ سے کیا کام ہے اس نے جواب دیا کوئی کام نہیں سلام کرنے آیا ہوں۔والد صاحب نے اسے کہا۔سلام ہو چکا ہے اب تم چلے جاؤ۔چند ماہ بعد اسی چور نے عشاء کے بعد ہمارے گھر کے بیرونی گیٹ پر دستک دی۔میں نے دروازہ پر آکر اس وقت آنے کی وجہ دریافت کی۔تو اس نے کہا حاجی صاحب سے ملنا چاہتا ہوں۔میں نے اسے کہا کہ انہیں بخار ہے وہ سردی میں باہر نہیں آسکتے۔تم مجھے اپنے آنے کا مقصد بتادو میں