تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 183 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 183

تاریخ احمدیت۔جلد 27 183 سال 1971ء حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی خلافت کے ابتدائی سالوں میں جب جماعتی نظام مربوط ہوا تو والد صاحب جماعت احمد یہ چندر کے منگولے کے سیکرٹری مال اور سیکرٹری اصلاح وارشاد منتخب ہوئے اور یہ دونوں عہدے آپ کی وفات جو ا ۱۹۷ء میں ہوئی تک ان کے پاس رہے اور سارے عرصہ میں آپ اپنے فرائض حد درجہ اخلاص، لگن، محنت سے سرانجام دیتے رہے۔ہمیشہ جماعت کا بجٹ پورا ہوتا رہا اور اصلاح و ارشاد کا کام بخوبی کرتے رہے۔ہمارے گاؤں کے قرب و جوار میں کئی نئی جماعتیں قائم ہوئیں اور ہماری جماعت میں دو درجن کے قریب افراد نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں احمدیت قبول کی۔۱۹۲۷ء میں والد صاحب نے فریضہ حج ادا کیا۔ایک درجن احمدیوں کو تحریک کر کے حج پر لے گئے۔اپنی بڑی ہمشیرہ کو بھی اپنے خرچ پر ساتھ لے کر گئے۔ہماری یہ پھوپھی وفات کے بعد بہشتی مقبرہ قادیان میں دفن ہے۔چھ ماہ بعد جب میرے والد ماجد فریضہ حج ادا کر کے واپس تشریف لائے تو مجھے بتایا کہ ایک شب نماز عشاء سے نماز فجر تک ساری رات خانہ کعبہ کے سامنے بیٹھ کر اپنی اولاد کے لئے دعائیں کرتا رہا۔یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعائیں سنیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ نہ صرف ان کی اولاد بلکہ اولاد کی اولا د کو اللہ تعالیٰ نے دینی اور دنیوی نعمتوں سے سرفراز فرمایا۔والد صاحب عبادات نماز و روزہ، تہجد بڑے اخلاص اور تواتر سے ادا کرتے۔ہر سال رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں اعتکاف بیٹھتے۔لوکل جماعت کے ممبران ہر سال انہیں مجلس مشاورت کا نمائندہ منتخب کرتے۔لازمی اور طوعی چندہ جات کی ادائیگی اخلاص اور فیاضی سے کرتے۔جب آپ نے ۱۹۰۵ء میں بیعت کی تو جماعت کو ایک چھوٹی سی کچھی مسجد ملی۔آپ نے بڑی مسجد اپنے خرچ پر تعمیر کی اور اس سے ملحق دو کمرے بھی تعمیر کرائے۔مربی صاحب کے لئے 9 مرلے زمین خرید کر بہت اچھا مکان اپنے مکان کے قریب تعمیر کرایا۔حضرت چوہدری غلام محمد صاحب جو ضلع سیالکوٹ کی احمد یہ جماعتوں کے چوتھے حصہ کے علاقہ امیر تھے۔۲۸ دسمبر ۱۹۶۰ء کو فوت ہوئے تو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے مسجد مبارک میں جنازہ کے معا بعد بڑی محبت اور شفقت سے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر میری دلجوئی فرماتے ہوئے فرمایا ” اب آپ کے والد صاحب کی زندگی ذرا مشکل ہو جائے گی۔میں نے ان دونوں بزرگوں (والد صاحب اور چوہدری صاحب کو لمبے عرصہ سے اب تک سالانہ جلسوں،