تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 177 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 177

تاریخ احمدیت۔جلد 27 177 سال 1971ء سکرنڈ کے مناظرہ میں احمدیوں کی طرف سے مناظر حضرت مولانا محمد ابراہیم صاحب بقا پوری امیر التبلیغ سندھ ) اور پریذیڈنٹ مولوی محمد پریل صاحب تھے۔57 آپ نے بابور، خیر وڈیرو تمبر اور تعلقہ شہزاد کوٹ میں خود بھی مناظرے کئے 58 نیز مرکز احمدیت قادیان سے مولانا ابو العطاء صاحب اور مولانا قمر الدین صاحب سیکھوانی فاضل کو بلا کر جلسے کرائے۔ایک بار آپ کی کوشش سے احمد یہ مشن امریکہ کے بانی حضرت مفتی محمد صادق صاحب کی حیدر آباد میں کامیاب تقریر ہوئی جس میں ستر اٹی ماسٹر صاحبان نے شرکت کی۔یہ تقریر ماسٹر محمد صدیق ناز صاحب پرنسپل Practising School کے مکان پر ہوئی۔59 ۱۹ دسمبر ۱۹۳۷ء کو آپ کا مخالفین سے مباہلہ بھی ہوا جیسا کہ آپ خود تحریر فرماتے ہیں:۔کمال ڈیرہ احمدیت کا گڑھ تھا۔مخالفین نے بالآخر مباہلہ کے ذریعہ نشان نمائی کا مطالبہ کیا حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی منظوری کے بعد یہ مطالبہ شرح صدر سے قبول کر لیا گیا۔طرفین سے دس دس افراد مباہلہ میں شامل ہوئے۔ایک سال کی مدت مقرر ہوئی۔مباہلہ کے بعد ابھی تین ماہ بھی نہ گزرے تھے کہ غیر احمدیوں کی طرف سے مباہلہ میں شامل ہونے والا ایک آدمی عطا محمد زرگرتپ محرقہ سے وفات پا گیا۔اس سے غیر احمدیوں میں ہر اس پھیل گیا۔بعض نے تو بہ کر لی اور دعا کیلئے بھی درخواست کی۔مباہلہ میں شامل ہونے والے سب احمدی محفوظ رہے۔اس سال جماعت احمدیہ کو خاصی ترقی ہوئی۔مباہلہ کے بعد ہمارے رئیس اللہ وسا یو صاحب نے بھی بیعت کر لی۔(سندھی سے اردو تر جمه) 60 مولوی غلام احمد صاحب فرخ مربی سلسلہ احمدیہ نے آپ کی وفات پر تحریر فرمایا:۔”خاکسار کو سب سے پہلے ۱۹۳۹ء میں مرحوم سے تعارف حاصل ہوا۔جب میں تبلیغی فرائض کے سلسلہ میں ان کے گاؤں گیا اس وقت آپ جماعت کے صدر تھے اور وہاں کی جماعت فعال جماعتوں میں سے تھی۔۱۹۴۷ء میں آپ اپنے گاؤں سے ہجرت کر کے کنڈیارو میں رہائش پذیر ہو گئے جو ضلع نواب شاہ کی ایک تحصیل کا ہیڈ کوارٹر ہے۔ماسٹر صاحب مرحوم کے ایمان کی عاشقانہ کیفیت تھی کہ ہر وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اور سلسلہ کے بزرگان کا ذکر آپ اپنی مجلس میں کرتے رہتے تھے۔آپ کی مجلس میں بیٹھ کر ایمان تازہ ہوتا تھا۔ملازمت کے سلسلہ میں آپ مختلف مقامات پر متعین رہے۔ہر جگہ آپ نے تبلیغ کا سلسلہ