تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 178 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 178

تاریخ احمدیت۔جلد 27 178 سال 1971ء جاری رکھا۔آپ نہایت نرمی اور حکمت سے تبلیغ کرتے تھے۔آپ نے متعدد مناظرے بھی کئے۔بذریعہ خطوط بھی اپنے غیر از جماعت دوستوں کو تبلیغ کرتے رہتے تھے تبلیغ کا آپ کو شغف تھا۔کمال ڈیرہ کے رئیس اعظم اللہ وسا یو خان تھے وہ گوپانگ قوم کے سردار بھی تھے۔ماسٹر صاحب مرحوم کا وہ بہت احترام کرتے تھے۔غیر احمدی ہونے کی حالت میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بڑی ہی عزت سے نام لیتے۔ماسٹر صاحب مرحوم کا ان کے ہاں روزانہ کا آنا جانا تھا ان کی مجلس میں ہمیشہ احمدیت کے عقائد پر بحث و مباحثہ ہوتا رہتا تھا اور اللہ وسایو خان صاحب اہل علم لوگوں کو بلا کر ماسٹر صاحب سے گفتگو کرواتے رہتے تھے۔آخر اللہ تعالیٰ کا فضل ہوا اور رئیس اللہ وسایو خان مرحوم بھی احمدیت میں شامل ہو گئے۔محترم ماسٹر صاحب مرحوم کی ان مجالس اور ان میں تبلیغ کے واقعات کا اکثر ذکر کیا کرتے تھے۔خاکسار نے جب سندھی میں سلسلہ کا لٹریچر لکھنا شروع کیا تو بڑی حد تک میری مدد کرنے والے آپ ہی تھے۔خصوصاً ”سیرت مسیح موعود جب سندھی میں لکھی تو محترم ماسٹر صاحب نے میری بہت مدد کی اور بڑے شوق اور محبت سے اس کام میں میرا ساتھ دیا۔آپ پورے اہتمام اور التزام سے تہجد پڑھتے تھے۔عموماً نصف شب کے بعد بیدار ہوتے اور اللہ تعالیٰ کے حضور نماز کے لئے کھڑے ہو جاتے۔آپ مستجاب الدعوات بزرگ تھے۔اکثر سچی رؤیا دیکھتے اور صاحب الہام بھی تھے۔حضرت مصلح موعود کے ساتھ آپ کو والہانہ محبت تھی۔حضور کے ارشاد کے مطابق اپنے لڑ کے بشارت احمد صاحب بشیر کو خدمت دین کے لئے وقف کیا۔ماسٹر صاحب مرحوم کو اللہ تعالیٰ نے جمالی صفات و اخلاق کا حامل بنایا تھا۔نہایت شدید غصہ دلانے والے حالات میں بھی آپ نرمی، رفق، حلم، بردباری اور نظم غیظ کا نمونہ تھے۔خندہ رو تھے اور مرنجان مرنج طبیعت کے مالک تھے۔مہمان نواز تھے۔سختی کا جواب نرمی سے دیتے اور اگلے شخص کا دل موہ لیتے۔ایک موقعہ پر ایک شخص نے میری موجودگی میں مغلوب الغضب ہوکر مکرم ماسٹر صاحب کے سر پر اتنے زور سے لٹھ مار دی کہ سر سے خون بہنے لگا۔مگر آپ کی طبیعت میں کوئی پیچ وتاب پیدا نہ ہوا اور جب تھوڑی دیر بعد وہ شخص نادم ہو کر آپ سے معافی کا خواستگار ہوا تو آپ نے اس کو خندہ پیشانی سے