تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 176 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 176

تاریخ احمدیت۔جلد 27 176 سال 1971ء کہ کیا آپ سے ابھی تک بیعت نہیں لی گئی؟ میرا یہ خط لے کر آپ حضور کی خدمت میں تشریف لے گئے۔تھوڑی دیر کے بعد تشریف لائے اور فرمایا کہ حضور عصر کی نماز میں تشریف لائیں گے تو اس وقت آپ سے بیعت لیں گے۔ظہر اور عصر کا درمیانی وقفہ میں نے مسجد مبارک میں ہی گزارا۔عصر کی اذان ہوئی تو حضور تشریف لے آئے اور دروازہ سے قدم باہر رکھتے ہی ارشاد فرمایا ”وہ دوست جو سندھ سے تشریف لائے ہیں کہاں ہیں۔میں احتراماً کھڑا ہو گیا۔حضور نے مسکرا کر ارشاد فرمایا کہ انہیں تو اردو نہیں آتی۔میں بیعت کس طرح لوں؟“۔میں نے عرض کی حضور میں تھوڑی بہت اردو جانتا ہوں۔اس پر آپ نے فرمایا ” کیا آپ کچھ عرصہ پنجاب میں بھی رہے ہیں؟“۔میں نے بیان کیا کہ حضور پنجاب میں تو نہیں رہا البتہ حضور کی کتب کا مطالعہ کیا ہے۔حضور نے از راہ شفقت فرمایا ”بیٹھ جائے“۔حضور نے میری بیعت لی۔میرے ساتھ کشمیر کے ایک عمر رسیدہ بزرگ عالم بھی بیعت میں شریک ہوئے۔اس وقت مجھے ان کا نام یاد نہیں۔بیعت کے بعد حضور نے دونوں ہاتھ اٹھا کر ہماری استقامت کیلئے دعا فرمائی۔دعا کے بعد میں نے دوبارہ عرض کیا کہ ”حضور میرے لئے ایک بار پھر دعا فرمائی جائے“۔حضور نے فرمایا کیسی دعا ؟۔عرض کی کہ ایسی دعا کہ حضور کا مجھے علم حاصل ہو جائے“۔حضور نے ازراہ ترحیم دوبارہ دعا فرمائی۔55 ماسٹر محمد پریل صاحب تقریباً ۲۳ سال ملازمت میں رہے۔ملازمت کے دوران آپ کی تبدیلی متعدد مقامات پر ہوئی۔جہاں جہاں بھی قیام کیا، آپ کی تبلیغی مساعی کے نتیجہ میں ساٹھ کے قریب جماعتوں کا قیام عمل میں آیا۔آپ نے متعدد چھوٹے چھوٹے پمفلٹ اور کتب سندھی میں ترجمہ کر کے اور طبع کروا کر لوگوں میں تقسیم کیں۔ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے گاؤں ڈیرہ کمال میں سکونت اختیار کی۔یہاں بطور صدر جماعت اور سیکرٹری تبلیغ خدمات انجام دیتے رہے۔اشاعت احمدیت کے سلسلہ میں آپ نے متعدد مناظروں اور جلسوں کا بھی اہتمام کیا۔ان کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے مناظروں میں ڈیرہ کمال ، سکرنڈ، گریلو لاڑکانہ ، بابور، خیر وڈیرو، با گوڈیرہ، تمبر ، تعلقہ شہزادکوٹ اور مناظرہ سعد و خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ان مناظروں میں خیر وڈیرو اور با گوڈیرہ میں آریوں کے ساتھ مناظرے ہوئے اور باقی غیر احمدی علماء کے ساتھ۔56