تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 175 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 175

تاریخ احمدیت۔جلد 27 175 سال 1971ء اس کے بعد خداوند کریم پر توکل کر کے میں دارلامان کی طرف چل پڑا جب وہاں پہنچا تو ظہر کا وقت تھا۔مسجد مبارک جو اس زمانہ میں بالکل چھوٹی سی تھی اس میں چلا گیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نورانی چہرہ دیکھ کر از حد خوش ہوا۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ یا بی اللہ کہ کر مصافحہ کیا۔اس وقت حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفتہ المسیح الاوّل ایک خط حضور کی خدمت میں پیش کر رہے تھے جو معلوم ہوا کہ مولوی عبدالحکیم پٹیالوی کا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے دریافت کیا کہ کہاں سے آئے ہو۔میں نے عرض کیا حضور حیدر آباد سندھ سے۔حضور نے سندھ کا حال پوچھا۔بعدہ فرمایا کہ کل آپ کی بیعت لیں گے۔دوسرے دن میں نے ایک چٹھی لکھی جس میں بیعت کی درخواست کی۔عصر کے وقت جب حضور تشریف لائے تو مجھے یاد فرمایا۔میں حاضرِ خدمت ہوا۔حضور نے فرمایا کہ ان کو اردو تو آتی نہیں بیعت کس طرح لیں۔میں نے عرض کیا کہ حضور میں اردو جانتا ہوں کیونکہ میں نے آپ کی کچھ کتابیں پڑھی ہیں۔اس کے بعد حضور نے میری بیعت لی۔حضور نے میرے لئے دعا بھی فرمائی۔میں نے عرض کیا کہ حضور مجھے کچھ کتابیں عطا فرمائیں۔اس پر حضور نے اپنے خادم میر مہدی حسین صاحب کو فرمایا کہ انہیں میری طرف سے تین کتابیں دیدو۔پندرہ روز دارالامان رہ کر واپس چلا آیا۔54 ازاں بعد آپ نے اپنی وفات سے دس سال قبل ذکر حبیب“ کے موضوع پر باندھی (ضلع نواب شاہ) کے ایک اجتماع میں قادیان دارالامان کے اپنے پندرہ روزہ قیام کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا:۔میں کم و بیش پندرہ بیس روز مہمان خانہ میں مقیم رہا۔مولوی نجم الدین صاحب مرحوم نے میری بہت خدمت کی۔اگلے روز میں پھر نماز ظہر کیلئے مسجد میں گیا۔حضور اذان کے معا بعد مسجد میں تشریف لے آئے۔تھوڑی بہت گفتگو جاری رہی۔پھر نماز شروع ہو گئی۔نماز کے بعد حضور حسب معمول اندر تشریف لے گئے۔مکرم مولوی محمد علی صاحب مرحوم ایم۔اے کا دفتر مسجد مبارک میں ہی تھا۔میں نے ان سے قلم دوات اور کاغذ لے کر حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں خط لکھا۔چونکہ زبان پر عبور حاصل نہ تھا اس لئے نصف اردو اور نصف سندھی میں اپنا مفہوم ادا کیا۔یہ خط حضرت نانا جان مرحوم میر ناصر نواب صاحب کے ذریعہ حضور کی خدمت میں پہنچا دیا۔حضرت میر صاحب مرحوم میرا خط پڑھ کر فرمانے لگے