تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 174
تاریخ احمدیت۔جلد 27 174 سال 1971ء اب حمام خانہ سے غسل کر کے آگئے ہیں اور سر مبارک کے بالوں (جو کند ھے برابر تھے ) سے گویا موتیوں کے قطرے گر رہے ہیں۔اس عاجز نے پندرہ روز میں حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کے چہرہ مبارک میں غم نہیں دیکھا۔جب بھی مجلس میں آتے ، خوش خندہ پیشانی ہوتے۔دیگر یہ بات دیکھنے میں آئی کہ مولوی محمد احسن صاحب امروہی اور دیگر علماء بڑی بڑی (حدیث) کی کتابیں لے آتے اور عرض کرتے کہ حضور اس کتاب میں یہ حدیث ہے۔اس کا کیا مطلب ہے؟ تو حضور علیہ السلام نے کبھی بھی نہیں کہا کہ اچھا کتاب دیکھوں تو جواب دیتا ہوں۔مگر فورا فرماتے کہ یہ مطلب ہے۔بس مولوی وہ بات نوٹ کر کے چلے جاتے۔اس سے عاجز پر یہ اثر ہوا کہ آیا نبیوں کا یہ ہی شان ہے۔الحمد للہ علی فضله واحسانه آپ نے دو سال بعد مزید لکھا:۔عاجز محمد پریل ولد قائم الدین سندھی احمدی از کمال ڈیر وضلع نواب شاہ سندھ 66 534-11-2 ”میری بیعت ایک رؤیا کی بناء پر تھی جو درج ذیل ہے۔ایک دن حکیم محمد رمضان صاحب احمدی آپ کا نام اخبار الحکم ۱۷ / اپریل ۱۹۰۰ ء صفحہ 11 پر مبائعین میں درج ہے ) اور علی مرادشاہ صاحب غیر احمدی میں احمدیت کے متعلق بحث شروع ہوئی۔ان دونوں نے اس عاجز کو ثالث مقرر کیا۔حکیم صاحب نے قرآن کریم سے استدلال کیا اور غیر احمدی سید صاحب نے اس کے جواب میں کسی اور کتاب کا حوالہ پیش کیا جسے میں نے رڈ کر دیا کیونکہ قرآن کریم کی دلیل کے مقابل قرآن کریم ہی پیش ہوسکتا ہے۔اس پر وہ سید مجھے برا بھلا کہہ کر چلا گیا اور اسی دن وہ میرے والد بزرگوار کے پاس پہنچا اور انہیں کہا کہ تمہارا لڑکا تو قادیانی ہو گیا ہے۔جب میں گھر پہنچا تو والدین نے مجھے سرزنش کی۔اس پر مجھے بہت رنج ہوا۔رات کو نماز تہجد میں رو رو کر دعائیں کیں اس کے بعد میں سو گیا۔خواب میں دیکھا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام میرے گھر میں داخل ہو گئے ہیں اور آپ کے پیچھے ایک بہت بڑی جماعت ہے۔میں نے ایک نورانی تجلی دیکھی جس پر مفتون ہو گیا۔دوڑ کر حضرت اقدس علیہ السلام کے قدموں پر گر پڑا اور کہا کہ حضور اس زمانہ کے امام ہیں۔مجھ کو بچالیں۔اس پر حضور نے کچھ مسکرا کر فرمایا جسے میں سمجھ نہ سکا۔اس کے بعد میں بیدار ہوا۔