تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 173
تاریخ احمدیت۔جلد 27 173 سال 1971ء حضرت صاحب لیٹے ہوئے تھے۔میری آواز سن کر حضور اٹھ بیٹھے اور حضرت اماں جان سے فرمایا کہ ان کو روٹیاں دو انہوں نے سفر پر جانا ہے۔چنانچہ انہوں نے کچھ روٹیاں دیں۔ہم ان روٹیوں کو لے کر ملتان آئے اور ان کو تبر کا اپنے احباب میں تقسیم کیا۔جب حضور سیر کے لئے تشریف لے جاتے تو ہم بھی حضور علیہ السلام کے تیز چلنے کی وجہ سے ساتھ دوڑتے جاتے تھے۔ایک دفعہ سیر کے دوران حضور کی سوٹی پر کسی کا پاؤں آ گیا اور سوئی زمین پر گر گئی لیکن آپ نے اس وقت مڑ کر بھی نہیں دیکھا کہ کس کا پیر حضور کی سوٹی پر آیا تھا۔بالآخر کسی دوسرے آدمی نے لپک کر حضور کو سوئی پکڑا دی۔حضور نے اس لئے پیچھے مڑکر بھی نہ دیکھا کہ وہ شخص شرمندہ نہ ہو۔48 اولاد: محمد اقبال صاحب۔حکیم محمود احمد صاحب حضرت ماسٹر محمد پریل صاحب کو پانگ بلوچ۔کنڈ یار و ضلع نوابشاہ ولادت : ۱۸۸۶ء 19 بیعت : ۱۹۰۶ ء 50 وفات : ۱۳ را گست ۱۹۷۱ ء - 51 (بلوچی قوم گوپانگ : رائے بہادر لالہ ہتو رام سی آئی اے ریٹائر ڈاکٹرا اسسٹنٹ کمشنر چیف اسسٹنٹ بلوچستان کی تحقیق کے مطابق بلوچ زبان حلبی میں بادیہ نشین کو کہتے ہیں۔جو لوگ ہمیشہ صحرا اور دامن کو ہستان میں خانہ بدوش رہنے والے ہوں ان کو بلوچ کہا جاتا ہے۔بلوچ لوگ امامین کے مرید تھے۔حادثہ کربلا میں بلوچی امام حسین علیہ السلام کے طرفدار تھے اور یزید کے خوف سے حلب سے کوچ کر کے ہندوستان آگئے۔ایک اور روایت کے مطابق سب بلوچ حلب سے نکل کر پہلے کرمان میں آئے۔اس وقت سب کا بڑا سر دار العلمش رومی تھا۔جو قبیلہ قریش سے حضرت امیر حمزہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی اولاد میں سے تھا)۔52 کنڈیارو ضلع نوابشاہ میں اصل جائے سکونت ماہی جو بھان گاؤں تھی جو قصبہ کمال کے قریب واقع ہے۔حضرت مولوی صاحب کی خود نوشت روایات میں ہے کہ انہوں نے جولائی ۱۹۰۵ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دستی بیعت کا شرف پایا تھا۔اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں اس زمانہ میں مسجد مبارک بہت چھوٹی تھی۔یہ عاجز ۱۵ دن صحبت میں رہا۔ہر ایک دن میں حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کا نورانی چہرہ روشن دیکھنے میں آتا تھا۔اس عاجز کو یہ ہی معلوم ہوتا کہ