تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 166 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 166

تاریخ احمدیت۔جلد 27 166 سال 1971ء قدم رکھتی جاتی تھی۔مجھے یہ پتہ تھا کہ ایسا کرنے میں برکت حاصل ہوتی ہے۔میری آہٹ کی وجہ سے حضور نے مڑ کر دیکھا اور میری طرف رخ کر کے ایک نظر سے مجھے بغور دیکھا اور پھر حضور ٹہلنے لگ گئے۔(۲) ایک مرتبہ میری والدہ صاحبہ مجھے لے کر حضرت صاحب کے گھر میں گئیں۔حضور علیہ السلام لیٹے ہوئے تھے میں حضور کے سر کی طرف بیٹھ کر حضور کے باز و دباتی رہی۔حضور کے بازو پر سے کپڑا ہٹا ہوا تھا۔(۳) ایک مرتبہ مجھے یاد ہے کہ حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام اس طرف کی سڑک پر سیر کے لئے جارہے تھے جدھر اب دارالا نوار ہے۔حضور کے ساتھ کافی مجمع تھا۔حضور بڑی تیزی سے چلتے تھے۔پیچھے پیچھے غبار اٹھ رہا تھا۔میں بھی محبت و اخلاص کے ساتھ اس راستہ پر کچھ دور تک پیچھے پیچھے (۴) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کے متعلق مجھے اتنا احساس یاد ہے کہ ہم بڑے چھوٹے سب خوش خوش رہا کرتے تھے۔نمازوں اور تلاوت وغیرہ میں مشغول ہوتے تھے اور حضرت صاحب کے گھر آیا جایا کرتے تھے۔خوشی غالب رہتی تھی اور کوئی فکر نہ ہوتا تھا“۔(۵) ”مجھے وہ نظارہ بھی یاد ہے جب میرے والد بزرگوار ہم سب کو لے کر امیر کابل کے ظلم سے بچنے کے لئے راتوں رات ہجرت کیلئے روانہ ہوئے تھے۔ہمارا وہاں کافی سامان ہوتا تھا۔گائے بکریاں اور غلہ مجھے یاد ہے۔با فراغت تھا مگر ڈر کی وجہ سے سب سامان و ہیں چھوڑ دیا تھا۔صرف بستر ساتھ تھے۔میری نانی اماں صاحبہ مرحومہ نے میرے سر پر کپڑا باندھا اور جیب میں کچھ پھل ڈالے۔ساری رات جنگل کا سفر کیا صبح کے وقت طلوع شمس کے بعد ہم سرحد پر پہنچے۔جہاں افغانی اور انگریزی حدود کے نشان نصب ہیں۔وہاں میرے ابا جان ٹھہر گئے اور ہاتھ اٹھا کر سب نے بطور شکرانہ دعا کی کہ ظالم بادشاہ کی حدود سے اللہ تعالیٰ نے نجات دی۔مندرجہ ذیل دو واقعات حضرت خلیفہ اول کے زمانہ سے متعلق ہیں مذکورہ بالا ہجرت کے بعد یہ خاندان پھر واپس چلا گیا تھا اور مندرجہ ذیل واقعات دوبارہ آنے کے بعد کے ہیں۔(۱) ہم حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کے گھر میں کثرت سے آیا جایا کرتے تھے اور میں فرط اخلاص سے حضور کے گھر میں جھاڑو دیتی تھی۔وضو کے لئے لوٹے میں پانی ڈال کر دیتی اور پاؤں دبایا