تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 165
تاریخ احمدیت۔جلد 27 165 سال 1971ء حضرت سراج بی بی صاحبہ، صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام و درویش قادیان حضرت سید فقیر محمد صاحب آف خوست (ولادت ۱۸۸۰ ء۔بیعت ۹۸ - ۱۸۹۷ء۔وفات ۶ نومبر ۱۹۶۲ء) 41 کی صاحبزادی، حضرت ڈاکٹر بدرالدین صاحب مجاہد بور نیو کی اہلیہ اور محترم شیخ نصیر الدین احمد صاحب ایم اے سابق مبلغ نائیجیر یا واستاذ جامعہ احمد یہ ربوہ کی والدہ ماجدہ تھیں۔آپ کو اوائل عمر میں اپنے والد بزرگوار کے ہمراہ افغانستان سے قادیان جانے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت کرنے کا شرف حاصل ہوا۔بہت نیک مخلص اور عبادت گزار خاتون تھیں۔اپنے محترم خاوند حضرت ڈاکٹر بدر الدین احمد صاحب مرحوم کے ہمراہ جن کی زندگی عملاً سلسلہ کی خدمت کے لئے وقف تھی مشرقی افریقہ اور پھر بور نیو میں تبلیغ دین اور خدمت سلسلہ میں ہمیشہ پیش پیش رہیں۔۱/۸ کی وصیت کی ہوئی تھی اور ابتدائی موصیات میں سے تھیں۔سلسلہ کی قریباً ہر مالی تحریک میں ذوق وشوق سے حصہ لیتی تھیں۔دعاؤں میں گہرا شغف تھا اور اللہ تعالیٰ نے رؤیا و کشوف کی نعمت سے بھی نوازا تھا۔حضرت سراج بی بی صاحبہ نے ۱۰ مارچ ۱۹۳۸ء کو اپنے میاں حضرت ڈاکٹر بدرالدین صاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عہد مبارک کے چشم دید واقعات لکھوا دیئے تھے جو ان کے قلم سے درج ذیل کئے جاتے ہیں۔" بسم الله الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم عاجز کی اہلیہ بنام سراج بی بی ( دختر سید فقیر محمد صاحب افغان یکے از شاگردانِ حضرت شہزادہ عبداللطیف صاحب مرحوم علیہ الرحمہ ) صحابیہ ہیں۔ان معنوں میں کہ بچپن میں انہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھنا اور حضور کا زمانہ یاد ہے۔مندرجہ ذیل باتیں حضور کے زمانہ کی انہیں یاد ہیں۔ان کی عمر اس وقت چھ سات برس کی ہوگی۔یہ بیان انہوں نے مجھے لکھوایا ہے۔(۱) ''ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تنہا باغ میں اس راستہ پر چہل قدمی فرما رہے تھے جو آموں کے درختوں کے نیچے جنوباً شمالاً واقع ہے۔اور ایک کنویں کے متصل (جواب متروک ہے ) ایک دروازہ کے ذریعہ جناب مرزا سلطان احمد صاحب کے باغ میں کھلتا ہے۔میں بھی حضور کے پیچھے پیچھے چلتی تھی اور جہاں جہاں حضور کا قدم پڑتا تھا بوجہ محبت کے انہی نقشوں پر میں بھی