تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 7
تاریخ احمدیت۔جلد 27 7 سال 1971ء مصلح موعود کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے اس کی عظمت کو اجا گر کیا اور بتایا کہ مصلح موعود کی شخصیت اتنی اہم تھی کہ خود رسول مقبول صلی سلیم نے اور آپ کے بعد صلحائے امت نے بھی اس کی خبر دی بلکه قبل از زمانہ اسلام میں بھی (جیسا کہ طالمود کی روایت سے ظاہر ہے ) اس کی پیشگوئی موجود تھی۔آپ نے بتایا کہ یہ پیشگوئی خدا تعالیٰ کے عالم الغیب ہونے کا زندہ ثبوت ہے۔اور اسلام کی صداقت کی ایک اہم دلیل ہے۔اس نشان کی جو اغراض بتائی گئی تھیں وہ سب کی سب حضرت مصلح موعود کے وجو د مبارک میں پوری ہوئیں اور ہم سب اس امر کے گواہ ہیں کہ مصلح موعود کی جملہ علامات کا ایک ایک نقطہ اس رنگ میں پورا ہوا ہے کہ اسے دیکھ کر ہماری روح اپنے خدا کے آستانہ پر سر بسجود ہو جاتی ہے۔دعا کے ساتھ یہ جلسہ بخیر وخوبی اختتام پذیر ہوا۔وزیر اعظم ماریشس سے جماعت احمد یہ مشرقی پاکستان کے وفد کی ملاقات وزیر اعظم ماریشس جناب سرسیو سا گر رام غلام Sir Seewoosagur Ramgoolam ۱۹۷۱ء میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مشرقی پاکستان تشریف لائے۔ان سے جماعت کے ایک وفد نے ملاقات کی اور انہیں پاکستان آنے پر خوش آمدید کہا اور انہیں قرآن کریم (انگریزی ترجمہ ) کا تحفہ پیش کیا۔وزیر اعظم صاحب نے دوران گفتگو احمد یہ جماعت کی تبلیغی مساعی کو سراہا اور وفد کو بتایا کہ ماریشس میں جماعت احمدیہ نے مختلف الخیال لوگوں کے آپس میں اتحاد اور ایک دوسرے کی بہبود کے سلسلہ میں بھی قابل تعریف کام کیا ہے۔نصرت جہاں آگے بڑھو سکیم کے تحت نئے ہسپتالوں اور سکولوں کا قیام اس سال کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ اس میں نصرت جہاں آگے بڑھو سکیم کے تحت مغربی افریقہ کے کئی ممالک میں متعدد ہسپتالوں اور سکولوں کا قیام ہوا جس سے افریقہ کی تاریخ میں ایک سنہری باب کا آغاز ہوا۔نئے ہسپتالوں کی تعداد آٹھ تھی جو غانا، سیرالیون اور گیمبیا کے درج ذیل مقامات آسوکورے، جورو، بواجے بو، بانجل ، ٹیچی مان ،سویڈ رو، گنجور اور روکو پر پر قائم کئے گئے۔ان کی بعض تفصیلات درج ذیل ہیں۔