تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 6
تاریخ احمدیت۔جلد 27 6 سال 1971ء کے لئے مسجد میں نہیں آسکتا پھر سر چکرانے کی تکلیف شروع ہو گئی ہے جو دورہ کی صورت میں ہوتی ہے۔حضور نے اپنی بیماری اور اس کے اثرات کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ دوست میرے لئے بھی جو کہ خدا تعالیٰ کا ایک عاجز بندہ ہے دعا کریں کہ اس بیماری کے جو چند اثرات ابھی باقی ہیں اللہ تعالیٰ انہیں بھی دور کر دے اور اپنے فضل سے مجھے کامل صحت عطا فرمائے۔کا اس کے بعد جلد ہی اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے حضورانور کو کامل شفا عطا فرما دی۔علم دین کے حصول کے بعد انڈونیشین طالب علم کی واپسی ۲۵ جنوری ۱۹۷۱ء بعد نماز عصر جامعہ احمد یہ ربوہ کے ہال میں جامعہ کے فارغ التحصیل انڈونیشی طالب علم مكرم عبد الغنی کریم صاحب شاہد کے اعزاز میں بہت وسیع پیمانے پر ایک الوداعی تقریب منعقد ہوئی۔اس تقریب میں جامعہ کے پرنسپل محترم سید داؤ داحمد صاحب و دیگر اساتذہ کرام اور طلباء نے بھر پور شرکت فرمائی۔عبدالغنی کریم صاحب سماٹرا کے علاقہ پاڈانگ کے رہنے والے تھے۔آپ اٹھارہ سال کی عمر میں علم دین حاصل کرنے کی غرض سے ۱۹۶۳ ء میں ربوہ آئے۔آپ نے جامعہ احمدیہ میں سات سال تک زیر تعلیم رہ کر شاہد کی ڈگری حاصل کی۔اسی دوران آپ نے ۱۹۶۹ء میں پنجاب یونیورسٹی سے مولوی فاضل کا امتحان بھی پاس کیا۔اس سال آپ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد مبلغ اسلام کی حیثیت سے اپنے وطن واپس جانے کو تیار تھے۔دوران تقریب مکرم عبدالغنی کریم صاحب نے بھی حاضرین سے اردو میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جہاں تک حصول تربیت کا تعلق ہے میں سب سے زیادہ اپنے آقا حضرت خلیفتہ اسیح الثالث کا ممنون احسان اور مرہون منت ہوں۔خلافت ثالثہ کے قیام کے وقت میں پہلا انڈو نیشین تھا جسے حضور کے دست مبارک پر بیعت کرنے کا خصوصی شرف حاصل ہوا۔اور یہ شرف ہی میرے لئے تربیت کا سب سے اہم اور گراں بہا ذریعہ ثابت ہو کر میری خوش قسمتی کا ضامن ٹھہرا اور میں ہمیشہ ہی حضور کی نظر شفقت کا مور درہا۔رود او تقریب بر موقع یوم مصلح موعود ۲۰ فروری ۱۹۷۱ء کو ۴ بجے بعد دو پہر یوم مصلح موعود کی مبارک تقریب پر لجنہ اماء اللہ ربوہ کا ایک خصوصی اجلاس لجنہ اماء اللہ مرکزیہ کے ہال میں منعقد ہوا۔اس جلسہ میں صدارت کے فرائض حضرت سیدہ مریم صدیقہ صدر لجنہ اماءاللہ مرکزیہ نے سرانجام دئے۔آپ نے اپنی تقریر میں پیشگوئی