تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 154 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 154

تاریخ احمدیت۔جلد 27 حضرت قریشی نورالحسن صاحب 154 سال 1971ء وفات : ۱۵ مئی ۱۹۷۱ء ولادت: تقریباً ۱۸۷۱ء بیعت : ۱۹۰۴ حضرت قریشی نور الحسن صاحب قریشی محمد عبد اللہ صاحب کے صاحبزادے تھے۔آپ کی رہائش کو ٹلی ہر نرائن تحصیل و ضلع سیالکوٹ میں تھی۔آپ نے ۱۹۰۴ء میں سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دست مبارک پر اس وقت جب حضور اقدس سیالکوٹ تشریف لائے تھے بیعت کرنے کی سعادت حاصل کی۔۱۹۱۳ ء سے اپنی جماعت کو ٹلی ہر نرائن کے پہلے سیکرٹری اصلاح وارشاد اور صدر ا رہے۔اور ۱۹۷۰ ء تک مقامی جماعت کے کاموں کو انتہائی اخلاص و دیانت سے انجام دیا۔خاموش مستعد کارکن اور پابند صوم صلوۃ تھے۔باقاعدگی سے چندے ادا فرماتے۔آپ تحریک جدید کے پانچ ہزاری مجاہدین میں بھی شامل تھے۔۱۹۱۷ء میں وصیت کی اور وفات تک پابندی کے ساتھ حصہ آمد ادا فرماتے رہے۔سلسلہ کے خادموں سے خاص لگاؤ تھا۔ان کی مہمان نوازی وغیرہ میں لذت محسوس فرماتے۔آپ نے ۱۵ مئی ۱۹۷۱ء کوقریباً ۱۰۰ سال کی عمر میں وفات پائی۔32 آپ بہشتی مقبرہ ربوہ میں مدفون ہیں۔مکرم نصیر احمد قریشی صاحب مربی سلسله سابق مجاہد تنزانیدو اسیر راہ مولیٰ آپ کے نواسے ہیں۔اولاد قریشی منظور احمد صاحب قریشی نوراحمد صاحب۔زینب بیگم صاحبہ زوجہ قریشی عبدالرحمن صاحب آف فیصل آباد محمد بی بی صاحبہ زوجہ صوفی محمد عبد اللہ صاحب اقصیٰ روڈ ر بوہ۔احمد بی بی صاحبہ زوجہ بشیر احمد صاحب آف نائی والا ضلع سیالکوٹ۔ممتاز بیگم صاحبہ زوجہ قاضی عبد الحمید صاحب مزنگ لاہور محمودہ بیگم صاحبہ زوجہ قریشی عطاء اللہ صاحب آف چانگریاں تحصیل پسر ورضلع سیالکوٹ۔33 حضرت محمد عبد اللہ صاحب میڈیکل پریکٹیشنر قلعہ صو با سنگھ ضلع سیالکوٹ ولادت: ۱۸۸۷ء بیعت ستمبر اکتوبر ۱۹۰۷ ء وفات : ۱۳ ، ۱۴ جون ۱۹۷۱ء34 حضرت ڈاکٹر صاحب کے خود نوشت حالات ( محرره ۶ فروری ۱۹۶۰ء) میں تحریر فرماتے ہیں کہ ۱۹۰۳ء میں جبکہ میں محکمہ نہر میں ملازم تھا۔رمضان شریف کی ایک رات خواب میں سحری سے قبل میں نے ایک بزرگ کی زیارت کی جس نے مجھ سے کہا کہ آپ کس سے بیعت ہیں۔میں نے عرض کیا