تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 146
تاریخ احمدیت۔جلد 27 146 سال 1971ء ملتا رہا ہے۔جب حضور کا وصال ہوا اور بٹالہ سے جنازہ لایا گیا اس وقت بھی میں یہاں ہی ( قادیان میں ) موجود تھا اور مجھے بھی حضور کے جنازہ مبارک کو کندھا دینے کا موقع ملا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے باغ والے مکان میں جب آخری زیارت کروائی گئی مجھے بھی اس وقت زیارت کا موقع ملا۔18 اپنے خود نوشت حالات میں انہوں نے ذکر کیا ہے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وصال مبارک ہوا تو وہ ان دنوں قادیان میں زیر تعلیم تھے۔خبر وصال مبارک آنے کے بعد نماز مغرب مسجد مبارک میں مولوی محمد علی صاحب نے پڑھائی۔لوگ رور ہے تھے اور مسجد میں رونے کا شور تھا۔اس پر مولوی محمد علی صاحب بہت ناراض ہوئے اور کہا اتنا شور کیوں مچایا ہے۔جو ہونا تھا ہو گیا ہے۔آپ لکھتے ہیں کہ اوروں کا تو معلوم نہیں مگر مجھے ان کا اس طرز پر اظہار ناراضگی بہت برالگا۔اپنی زندگی کے بعض دیگر اہم حالات لکھتے ہوئے آپ نے لکھا ہے کہ ۱۹۱۷ء سے ۱۹۱۹ ء تک آپ نے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک روڈ سروے پارٹی میں بطور اوورسیئر کام کیا۔بعد ازاں کچھ عرصہ قادیان میں ٹی آئی بورڈنگ میں اسسٹنٹ سپر نٹنڈنٹ کے طور پر کام کیا۔۱۹۲۲ء میں سول انجینئر نگ کالج پشاور میں اوورسیئر کلاس میں داخلہ لیا اور تعلیم مکمل کر کے سر ٹیفکیٹ حاصل کیا۔تعلیم مکمل کرنے پر پھر کچھ عرصہ حضرت مفتی محمد صادق صاحب کے دفتر میں بطور ہیڈ کلرک کام کیا۔پھر روہڑی کینال کنسٹرکشن میں ملازمت اختیار کر لی۔19 ۱۹۳۴ء میں آپ دوبارہ صدر انجمن احمدیہ میں ملا زم ہوئے اور بیت المال، امور عامہ اور اصلاح وارشاد کی نظارتوں میں بیش قیمت خدمات بجالانے کے بعد ۱۹۶۳ء میں سبکدوش ہوئے۔ہر محکمہ میں فرض شناسی اور اخلاص کا نہایت عمدہ نمونہ قائم کیا۔چنانچہ حضرت خان صاحب فرزند علی صاحب ناظر بیت المال قادیان نے ۵ جولائی ۱۹۳۹ء کو آپ کو یہ سر ٹیفکیٹ دیا کہ شیخ عظیم الرحمن صاحب قریباً پانچ سال سے بیت المال میں کام کرتے رہے ہیں۔جب تک ان کا کام میرے نوٹس میں دیا ہے، وہ نہایت تسلی بخش رہا ہے اور میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ وہ کام کو نہایت محنت اور شوق سے سرانجام دیتے رہے ہیں۔ان کا کام تشخیص آمد جماعتہائے و بجٹ صیغہ جات کا نہایت ہی اہم اور ذمہ داری کا کام تھا لیکن انہوں نے اس کام کو نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیا ہے۔میں ان کے کام سے ہمیشہ خوش رہا ہوں۔