تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 145
تاریخ احمدیت۔جلد 27 145 سال 1971ء السلام نے اپنی کھڑکی میں سے اپنا چہرہ مبارک باہر نکال کر دریافت فرمایا کہ منشی حبیب الرحمن کے لڑکے نظیم الرحمن اور مسعود الرحمن ہیں، ہم نے عرض کیا کہ حضور ہیں۔فرما یا ٹھہر جاؤ“۔ہم قطار سے علیحدہ ہو کر کھڑے ہو گئے اور قطار چلی گئی۔تھوڑی دیر میں حضور علیہ السلام نے اپنا چہرہ مبارک پھر اُسی کھڑکی سے نکال کر فرمایا ”جھولی کرو“۔ہم نے جھولی کی تو حضور علیہ السلام نے اوپر سے مٹھائی پھینکی۔زعفرانی رنگ کے بڑی قسم کے بڑے لڈو نہایت ہی لذیذ تھے جن کو ہم اپنی جھولیوں میں لے کر خوشی خوشی بورڈنگ میں چلے گئے اور وہاں جا کر اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر خوب پیٹ بھر کر کھائے۔ان کا ذائقہ نہایت عمدہ اور ان کی رنگت نہایت دلفریب تھی۔ان کا ذائقہ اور رنگت اب تک جب بھی یاد آتا ہے اپنے مزے سے منہ تازہ ہو جاتا ہے۔گویا ابھی کھایا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب آخری دفعہ لاہور تشریف لے جا رہے تھے تو سکول کے تمام طلباء سکول کی دیوار کے ساتھ باہر کی طرف بغرض شرف مصافحہ قطار باندھ کر کھڑے ہو گئے۔چنانچہ حضور علیہ السلام سے مصافحہ کرتے ہوئے چلے گئے۔جب مصافحہ ختم ہو گیا اور حضور آگے بڑھے تو میں بھی حضور علیہ السلام کے پیچھے چل پڑا۔آپ تیز چلتے تھے اور خدام بھی حضور علیہ السلام کے ہمراہ تھے میں بھی پیچھے پیچھے بھاگا جاتا تھا اور یہ ارادہ تھا کہ جب حضور یکہ پر سوار ہو جاویں گے واپس آؤں گا۔چنانچہ میں بھاگا ہوا پیچھے پیچھے چلا گیا۔آپ جب چوہڑوں کے مکانوں کے قریب پہنچے تو راستہ چھوڑ کر دوسری طرف رخ فرمایا اور قریب ہی آموں کے درخت تھے ان کے نیچے ٹھہر گئے۔خدام سب ارد گرد کھڑے ہو گئے مگر حضور سب سے آگے کھڑے تھے۔میں بھی بھاگتا ہوا حضور کے پاس پہنچ گیا۔جب میں پہنچا تو حضور نے محبت اور پیار سے فرمایا کہ بس اب تم واپس چلے جاؤ ہم یہاں سے یکہ پرسوار ہو جائیں گے۔چنانچہ میں بعد مصافحہ حضور کے اس حکم کی تعمیل میں واپس لوٹ پڑا۔اگر چہ دل تو یہی چاہتا تھا کہ جب تک حضور سوار نہ ہو جاویں ٹھہروں مگر حضور کے فرمان کی فوری تعمیل دل میں تھی۔اس لئے واپس چلا آیا۔جب واپس لوٹا تو وہ دو یا تین اور لڑ کے بھی بھاگے ہوئے چلے آرہے تھے میں نے ان کو کہا کہ حضرت صاحب نے یہ فرمایا ہے اس لئے میں تو آ گیا ہوں اس کے بعد مجھے یاد نہیں کہ وہ میرے ساتھ ہی واپس آگئے تھے یا آگے چلے گئے تھے لیکن میں تو واپس آ گیا۔خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے مجھے حضور کے ساتھ لدھیانہ (جانے) کا موقعہ ملا۔لدھیانہ میں بھی حضور کی صحبت سے فیضیاب ہونے کا موقعہ ملا اور قادیان میں بھی حضور کی صحبت میں اکثر بیٹھنے کا موقعہ