تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 144 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 144

تاریخ احمدیت۔جلد 27 144 سال 1971ء حضرت شیخ کظیم الرحمن صاحب، حضرت منشی حبیب الرحمن صاحب رئیس حاجی پورہ ( یکے از ۱۳ ۳ اصحاب) کے صاحبزادے اور حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی کے داماد تھے۔آپ تحریر فرماتے ہیں:۔میں خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے پیدائشی احمدی ہوں۔میری پیدائش ابتداء ۱۸۹۳ ء کی ہے جب میں چھوٹی عمر کا تھا تو اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تذکرہ اکثر مرزا صاحب کے نام سے ہمارے گھر میں رہتا تھا۔قادیان سے حضرت مفتی محمد صادق صاحب، شیخ یعقوب علی صاحب اور مفتی فضل الرحمن صاحب اکثر حاجی پورہ جایا کرتے تھے۔اس وقت میں یہ سمجھا کرتا تھا کہ قادیان میں چار ہی آدمی ہیں۔ایک مرزا صاحب اور باقی تین آدمی مذکورہ بالا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عقیدت اور محبت بچپن سے ہی میرے دل میں ہے۔میں ۱۹۰۴ء میں پہلی بار حضرت والد صاحب مرحوم کے ہمراہ قادیان آیا تھا اور حضور علیہ السلام کی زیارت اور صحبت سے فیضیاب ہوا۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ والد صاحب مرحوم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دروازہ پر وہ دروازہ اب زنانہ مکان میں شامل ہو گیا ہے ) آکر دستک دے کر دادی ( حضور علیہ السلام کی خادمہ تھی جس کو سب دادی کہتے تھے ) کو آواز دی کہ حضرت صاحب کو اطلاع کر دو اور ہم دونوں مسجد مبارک میں جو اس وقت بہت چھوٹی تھی اور چھوٹی مسجد کے نام سے موسوم کی جاتی تھی انتظار کیلئے آ بیٹھے۔جو نہی کہ حضور علیہ السلام کو اطلاع ملی۔آپ فوراً براستہ کھڑ کی ( جو مسجد مبارک میں اندر سے آتی ہے اور پردہ پڑا رہتا ہے ) تشریف لائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تشریف آوری سے قبل والد صاحب مرحوم نے مجھے دوروپے دیئے کہ جب حضور تشریف لائیں تو یہ نذرانہ پیش کر دینا اور اس کے پیش کرنے کا طریقہ یہ سمجھایا کہ بائیں ہاتھ پر داہنا ہاتھ رکھ کر اس پر یہ روپے رکھ کر نذر پیش کرنا۔چنانچہ جب حضور تشریف لائے تو میں نے اسی طرح نذر پیش کی جس کو حضور علیہ السلام نے اپنے داہنے دست مبارک سے اٹھا کر اپنی واسکٹ کی دائیں جیب مبارک میں ڈال لیا۔والد صاحب مرحوم سے بہت باتیں ہوتی رہیں اور میں خاموش پاس بیٹھا رہا۔۔۔۔۔۔میں اور میرے چھوٹے بھائی مسعود الرحمن صاحب ۱۹۰۶ ء میں بغرض حصول تعلیم یہاں آئے۔ایک دن صبح کی نماز کے بعد ہم سب بورڈران مسجد اقصیٰ سے قطار میں واپس آرہے تھے کہ حضور علیہ