تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 143
تاریخ احمدیت۔جلد 27 143 سال 1971ء ایک درویش مزاج بزرگ تھے۔نہر کے محکمہ میں اوور سیئری کی۔۱۹۴۴ء میں ریٹائر ہوئے۔اس دور میں بھی نہایت سادہ زندگی بسر کرتے تھے۔حالانکہ دوسرے اوورسیئر بڑے اعلیٰ معیار زندگی کے حامل تھے۔نہ ہی ملازمت کے دوران اور نہ ہی بعد میں کوئی مکان بنایا۔نہ زمین لی۔صرف تنخواہ پر ہی گزارہ تھا۔اس ظاہری بے سروسامانی کے باوجود بے حد مطمئن اور صابر و شاکر انسان تھے۔۱۹۴۴ء میں نہر کی ملازمت ختم ہونے کے بعد ڈیرہ غازی خان آباد ہونے کی بجائے بچوں سمیت قادیان چلے گئے۔نظارت امور عامہ میں ملازمت اختیار کی اور فسادات ۱۹۴۷ء تک انچارج شعبہ تنفیذ اور محتسب کے فرائض سر انجام دیتے رہے۔13 ہجرت کے بعد چار سال تک ڈیرہ غازی خان میں مقیم رہے۔مگر مرکز کی کشش پھر ربوہ کھینچ لائی۔یہاں محکمہ آبادی سے منسلک ہو گئے۔کام بڑی محنت ، لگاؤ اور خلوص سے کرتے۔اگر کوئی صاحب زمین کا نشان لینے آجاتے تو ساتھ چل پڑتے۔خواہ دریا کے کنارہ تک ہی کیوں نہ چلنا پڑتا۔بہت ہر دلعزیز تھے۔چھوٹے بچوں سے بڑا پیار کرتے۔حق بات بے دھڑک کہہ دیا کرتے۔لین دین کے کھرے تھے۔نماز با جماعت کا التزام بڑے اہتمام سے کرتے۔نماز کی با قاعدگی بفضلہ تعالی آخری دم تک قائم رکھنے کی توفیق ملی۔فرض روزوں کے علاوہ ہفتہ میں دو بار یعنی ہر سوموار اور ہر جمعرات کو نفلی روزے ایک لمبے عرصہ تک رکھتے رہے۔بیواؤں اور یتیموں کا بڑا خیال رکھتے۔مستحق لوگوں کے گھر صبح کے اندھیرے میں جا کر پیسے دے آتے تاکہ کسی دوسرے کو اس کا علم نہ ہو اور لینے والے کا بھی بھرم قائم رہے۔آخری دم تک صحت اچھی رہی۔پیدل چلنے ، دودھ پینے اور کچی سبزیاں کھانے کا بڑا شوق تھا۔اپنی ضروریات بہت محدود رکھی ہوئی تھیں۔ذکر الہی میں شغف تھا۔اس لئے دل بہت مطمئن رہتا تھا۔اللہ تعالیٰ نے کسی کا محتاج نہیں کیا۔ساری عمر دعا کرتے رہے کہ الہی لمبی بیماری سے بچانا اور جانکنی کے عذاب سے نجات دینا۔الحمدللہ دونوں دعا ئیں احسن طور پر پوری ہوئیں۔14 اولاد: لیفٹینٹ کرنل ملک بشارت احمد صاحب۔ملک محمد اکبر صاحب حضرت شیخ تنظیم الرحمن صاحب ولادت: یکم مارچ ۱۸۹۳ء ۱ پیدائشی احمدی - زیارت : ۱۹۰۴ء وفات: ۲۵/ ۲۴ مارچ ۱۶۶۱۹۷۱