تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 141 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 141

تاریخ احمدیت۔جلد 27 141 سال 1971ء آپ چندہ جات میں اپنی حیثیت کے مطابق با قاعدگی سے حصہ لیتے۔فضول اور لغو باتوں اور بری مجلس سے اجتناب کرتے۔اپنا فارغ وقت تسبیح وتحمید اور عبادت میں گزارتے۔۷ ۱۹۴ء میں آپ اپنے گاؤں سے ہجرت کر کے ملتان چلے آئے۔۱۹۵۳ء میں فسادات کے وقت آپ سرگودھا کے نواحی گاؤں چک نمبر ۹۹ شمالی میں چلے گئے اور وہاں اپنی عمر کا کافی عرصہ گذارا۔اس کے بعد آپ ربوہ تشریف لے آئے اور اپنی عمر کا باقی حصہ یہاں پر ہی گزارا۔وفات سے دس بارہ روز قبل ہی آپ نے کہنا شروع کر دیا تھا کہ اب تو میں آپ کے پاس چند روز کا مہمان ہوں۔آپ کی نماز جنازہ مورخہ ۱۷ فروری ۱۹۷۱ء دفا تر صدر انجمن احمدیہ کے غربی احاطہ میں محترم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب نے پڑھائی اور تدفین بہشتی مقبرہ میں قطعہ صحابہ میں عمل میں آئی۔اولاد: شیر محمد صاحب۔سردار محمد صاحب۔سردار بی بی صاحبہ زوجہ محمد اسماعیل صاحب۔محمد جمیل صاحب حضرت ٹھیکیدار چوہدری غلام رسول صاحب ولادت : ۱۸۸۹ء تحریری بیعت : ۱۹۰۶ء وفات : ۲۱/۲۰ فروری ۱۹۷۱ء آپ کے والد ماجد کا نام چوہدری عبد الرزاق صاحب تھا۔آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریری بیعت ۱۹۰۶ء میں کی۔آپ دنیا پور ضلع ملتان میں مقیم تھے وہاں سے ۱۹۰۹ء میں ہجرت کر کے قادیان آگئے۔۱۹۱۹ ء تک دارا مسیح میں تعمیر کے علاوہ متعدد دیگر تعمیرات آپ کی زیر نگرانی انجام پاتی رہیں۔اسی طرح منارة امسیح کی تعمیر میں اس کی تکمیل تک حصہ لیا۔۱۹۴۴ء میں حضرت مصلح موعود کی ہدایت پر فضل عمر انسٹی ٹیوٹ کی عمارت اپنی نگرانی میں تعمیر کرائی۔۱۹۵۰ء میں آپ کو صدر انجمن احمدیہ پاکستان نے ربوہ میں اینٹوں کا بھٹہ چلانے کا کام سپر د کیا۔بعد ازاں آپ نے ۱۹۵۷ء میں اپنا بھٹہ جاری کیا۔نہایت مخلص اور فدائی احمدی تھے۔غرباء پروری آپ کا نمایاں وصف تھا۔ربوہ کی بہت سی مساجد کے لئے آپ نے مفت اینٹیں مہیا فرما ئیں۔حصہ جائیداد اپنی زندگی میں ہی ادا کر دیا۔تحریک جدید کے پانچ ہزاری فوج کے سپاہی تھے۔اولاد: عبداللہ صاحب۔عبدالمجید صاحب۔عبدالسمیع صاحب۔غلام فاطمہ صاحبہ اہلیہ صالح