تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 5 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 5

تاریخ احمدیت۔جلد 27 5 سال 1971ء اٹھانا ہر کس و ناکس کا کام نہیں اور جب تک محققین کی سالہا سال کی محنتوں کے نتائج سے استفادہ نہ کیا جائے اور اہل علم کی آنکھ سے ان مسائل کو نہ دیکھا جائے اس معجزہ کی پوری شان ایک عامی کو نظر نہیں آسکتی۔اس پہلو سے برادرم پروفیسرغنی صاحب کی تحقیق ایک بلند پایہ کوشش ہے اور مختصر قرآنی آیات کی اندرونی وسعتوں میں جھانکنے میں بہت مدد دیتی ہے۔فجزاہ اللہ احسن الجزاء۔اس کے علاوہ یہ ایک عملی ضرورت کی بیش قیمت کتاب ہے جو وراثت کی نہایت مشکل اور پیچیدہ امکانی صورتوں کو بھی بڑے عمدہ اور سہل طریق پر حسابی رنگ میں حل کر دیتی ہے۔دینی علوم سے شغف رکھنے والوں نیز قانون دانوں کے پاس تو اس کتاب کا ہونا از بس ضروری ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الثالث کا گھوڑے سے گرنے کا واقعہ ۲۱ جنوری بروز جمعرات صبح اس وقت ایک افسوس ناک واقعہ پیش آ گیا جب حضور انور گھوڑے پر سواری فرمارہے تھے کہ اچانک گھوڑا بدک کر بھاگ اٹھا اور ایک دم مڑ گیا۔جس کی وجہ سے حضور انور گر پڑے اور کمر کے عضلات میں شدید کھنچاؤ پڑ گیا۔کمر کی ہڈی پر چوٹ آئی اور کمر کی ہڈی کا دوسرا حصہ بھی چوٹ کے اثر سے دب گیا۔اس بیماری کے دوران ڈاکٹر مسعود احمد صاحب سرجن کو لاہور سے نیز کرنل محمود الحسن صاحب سرجن کو راولپنڈی سے تشریف لا کر حضور انور کے علاج کی سعادت نصیب ہوئی۔جبکہ دوران بیماری محترم ڈاکٹر صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب با قاعدگی سے حضور انور کی صحت سے متعلق احباب جماعت کو مطلع فرماتے رہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے ۲۴ مئی ۱۹۷۱ کو بعد نماز مغرب مسجد مبارک میں محلہ دار الصدر شرقی کے انصار کے ایک تربیتی اجلاس سے خطاب کے دوران اپنی اس چوٹ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جنوری میں گھوڑے پر سے گرنے کی وجہ سے ریڑھ کی ہڈی کے دومنکوں میں جو نقص واقعہ ہوا تھا اللہ تعالیٰ نے اپنے غیر معمولی فضل سے اسے پوری طرح دور کر دیا ہے۔مگر اس چوٹ کی وجہ سے ڈاکٹری مشورہ کے مطابق مجھے گیارہ ہفتے تک لیٹے رہنا پڑا۔اس عرصہ میں میری خواہش اور تمنا یہی ہوتی تھی کہ جتنی جلدی ہو سکے میں نمازوں کے لئے مسجد میں جاؤں اور اپنے دوستوں سے ملوں۔مگر میں لیٹے رہنے پر مجبور تھا پھر اس بیماری کے نتیجہ میں بعض اور شکایات بھی پیدا ہوگئیں جن کی وجہ سے میں ابھی تک زیادہ چل پھر نہیں سکتا۔التحیات کی حالت میں ابھی بیٹھ بھی نہیں سکتا یہی وجہ ہے کہ میں نماز