تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 138
تاریخ احمدیت۔جلد 27 138 سال 1971ء پنڈی کے لئے چل دی اور ہم شہر جانے کے لئے اسٹیشن سے روانہ ہو پڑے۔وہاں پر ایک منشی غلام حیدر صاحب تحصیلدار جہلم تھے وہ حضرت کو فٹن گاڑی میں لینے آئے۔وہ احمدی تو نہیں تھے مگر معتقد حضرت اقدس کے بہت تھے۔حضرت اقدس فٹن پر سوار ہو گئے اور منشی غلام حیدر صاحب فٹن کے پائیدان پر کھڑے ہو گئے۔اگر چہ وہاں کے لوگوں نے اپنی عادت کے موافق خوب گوہر پھینکا مگر گاڑی کے نزدیک جو آ تا منشی غلام حیدر صاحب چھانٹا رسید کر کے اسے پیچھے ہٹا دیتے۔شام کے وقت ہم اپنی قیام گاہ پر پہنچے جو ایک کوٹھی میں تھی جو ایک ہندو رئیس نے حضرت اقدس کے ٹھہرنے کے لئے پہلے سے دی ہوئی تھی۔اس سفر میں حضرت مولوی عبداللطیف صاحب شہید اور دیگر بہت سے بزرگانِ دین حضرت اقدس کے ہمرکاب تھے۔چنانچہ اسی رات بمعہ ایک کثیر تعداد کے میں نے بھی حضرت اقدس کے دست مبارک پر بیعت کی اور کافی وقت دباتے رہے۔دوسرے دن سارا دن کچہری میں رہے۔حضرت اقدس کچہری میں حاضر ہونے کے بعد قادیان تشریف لے گئے اور ہم بھی سیالکوٹ لوٹ آئے۔یہ بیان میرا چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ نے گذشتہ جلسہ سالانہ پر ریکارڈ کیا تھا جو ان کے پاس اب بھی موجود ہے۔قیام جہلم میں میں نے حضرت سید عبد اللطیف صاحب کو دیکھا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ اس قدر محبت رکھتے تھے کہ جب بھی آپ کی صحبت میں بیٹھتے تو آنکھوں سے آنسو رواں رہتے تھے کیا ہی مبارک وجود تھے۔اللہ تعالیٰ ان پر اپنی برکتیں بے شمار نازل فرما دے۔آمین اولاد ۱۔عبدالسلام صاحب ( مرحوم ) - ۲ - امتہ السلام صاحبہ (مرحومہ) زوجہ ڈاکٹر میجر عبد الحق ملک صاحب۔۳۔عبدالمنان ناہید صاحب (معروف شاعر )۔۴۔خورشید مسرت صاحبہ ( مرحومه ) زوجه میجر محی الدین ملک صاحب ۵ نسیم اختر صاحبہ اہلیہ میجر میرمحمد عاصم صاحب حضرت صوفی عبد الرحیم صاحب لدھیانوی ولادت: ۱۹۰۰ء بیعت: پیدائشی احمدی وفات: ۱۵ جنوری ۱۹۷۱ء حضرت صوفی عبدالرحیم صاحب ، حضرت سید میر عنایت علی صاحب لدھیانوی کے فرزند تھے۔بچپن میں اپنے والد ماجد کے ہمراہ اکثر قادیان جانے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت کرنے کا شرف حاصل ہوا۔بہت پر جوش احمدی اور دعاؤں سے بے حد شغف رکھنے والے ملنسار اور اور حدشہ مہمان نواز بزرگ تھے۔3