تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 128 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 128

تاریخ احمدیت۔جلد 27 128 سال 1971ء کی گئی ہے۔(حالانکہ یہاں پر سورۃ فاتحہ نہیں لکھی گئی بلکہ اس کے الفاظ لے کر مختلف دعا میں حمدیہ عبارت لکھی گئی ہے۔) اس پر ملک صاحب موصوف نے مرکز میں چھپے ہوئے قرآن کریم کے پہلے دو صفحات کے بہت سے عکس اگلے اجلاس میں تقسیم کر دیئے کہ احمدیوں کا قرآن شریف تو یہ ہے ان کے کسی قرآن میں وہ عبارت نہیں ہے جسے غلط طور پر قرآن کریم کی آیات ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔مکرم محمد اور میں صاحب سے بھی مسلمانوں کے ایک اجتماع میں کسی مسلمان عالم نے پوچھا کہ آپ کا تعلق کس گروہ سے ہے انہوں نے کہا کہ میں بفضلہ تعالیٰ احمدی ہوں اس پر عالم نے کہا کہ کیا تم کو معلوم نہیں کہ احمدیوں نے قرآن کریم تبدیل کر دیا ہے اس پر انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا معلوم ہوتا ہے کہ احمد یہ مشن نے یہ بات مجھ سے چھپائے رکھی ہے اگر یہ بات درست ہے تو میں اس مشن کو خیر باد کہ دونگا۔آپ ابھی میرے ساتھ چلیں احمدیہ مشن جاکر ان کا قرآن دیکھتے ہیں۔آپ مجھے اس میں تبدیل شدہ عبارت دکھا دیں۔وہ کہنے لگے اس وقت میں آپ کے ساتھ نہیں جاسکتا اور راہ فرار اختیار کر گئے۔142 وزیر اعظم زیمبیا سے ملاقات ۱۹ را پریل ۱۹۸۹ ء کو جماعت احمدیہ زیمبیا کا مندرجہ ذیل افراد پر مشتمل وفد زیمبیا کے وزیر اعظم سے ملا۔ا۔مکرم مقبول احمد ذبیح صاحب۔۲۔مکرم سمیع اللہ قمر صاحب ۳۔مکرم ابوبکر بوا بوا صاحب ۴۔مکرم بیجی فضلی صاحب اس موقعہ پروزیر اعظم کی خدمت میں سیلاب زدگان کی امداد کیلئے ۴ ہزار کو اچے کا چیک پیش کیا گیا اس ملاقات کا ذکر ریڈیو اور ٹی وی کے علاوہ ملکی اخبارات نے بھی کیا۔143 جماعت احمدیہ زیمبیا کی ترقی اور پھیلاؤ زیمبیا میں اس وقت ۱۵۰ ۱۷افراد پر مشتمل جماعت موجود تھی۔با قاعدہ طور پر صرف لوسا کا شہر ہی میں جماعت تھی اس کے علاوہ مندرجہ ذیل مقامات پر چند ایک افراد جماعت موجود تھے۔Luanshya, Kabwe, Ndola, Kitwe, Mufulira, Kalulushi, Chingola, Choma, Chililabombwe۔144