تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 123
تاریخ احمدیت۔جلد 27 123 سال 1971ء زیمبیا مشن کی انتظامیہ جماعت احمد یہ زیمبیا کے پہلے قائمقام صد ر مکرم چوہدری محمد شریف صاحب اور سیکرٹری جنرل مکرم کبیر احمد صاحب بھٹی مقرر ہوئے۔عارضی طور پر چوہدری صاحب کا مکان ہی جماعت کا ہیڈ کورارٹر بنایا گیا۔مکرم چو ہدری صاحب موصوف تنزانیہ سے زیمبیا گئے تھے اور Kabwe کے مقام پر ریلوے میں ایک اہم عہدے پر فائز رہنے کے بعد ۱۹۷۰ ء میں ریٹائر ہوئے اور Evelyn Hone College Lusaka میں کامرس کے مضامین پڑھانے پر مقرر ہوئے۔آپ طلباء میں اتنے ہر دلعزیز تھے کہ طلباء آپ کو Father کہہ کر پکارتے تھے۔آپ ۱۹۷۳ء میں وفات تک اسی کالج سے منسلک رہے اور اس عرصہ میں احمدیت کی اشاعت اور ترقی کے لئے بدل و جان کوشاں رہے۔130 جماعتی انتظامیہ کے لحاظ سے ابتداء زیمبیا کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ا۔لوسا کا سرکٹ۔۲۔باقی سارا زیمبیا دوسراسرکٹ لوسا کا سرکٹ میں Chibolya با قاعدہ جماعت قائم ہوئی اور اس کے صدر محمد اور لیس صاحب، جنرل سیکرٹری خلیل کلالہ صاحب اور اسسٹنٹ جنرل سیکرٹری عبدالعزیز مو با نگاه صاحب مقرر ہوئے۔131 مکرم شیخ نصیر الدین صاحب ۳۰ ستمبر ۱۹۷۲ تک مکرم ادریس صاحب کے پاس مقیم رہے لیکن شہر سے دور ہونے کی وجہ سے جماعت سے رابطہ میں دقت پیش آتی رہی۔چنانچہ اکتو بر ۱۹۷۲ء میں شہر کے اندر ایک Polish لیڈی ڈاکٹر کی ملکیت عمارت کا ایک کمرہ کرایہ پر لے لیا گیا۔یہاں Chibolya کی نسبت کافی سہولتیں تھیں۔رابطہ کیلئے پوسٹ بکس اور ٹیلی فون بھی موجود تھے۔132 اس عمارت میں واقع کلینک میں جمعہ کے روز وقفہ کے دوران احباب جماعت نماز جمعہ ادا کرتے۔باجماعت نماز جمعہ کے بعد کھانا بھی اکٹھے مل کر کھاتے۔عید کی نماز مکرم چوہدری شریف صاحب کے گھر ہوتی رہی جو ان کی وفات کے بعد مکرم ملک جلیل الرحمن صاحب کے گھر پر ادا کی جاتی تھی۔133 احمد یہ بک شاپ ۱۹۷۳ء میں خدا تعالیٰ کے فضل سے احمد یہ مشن کو بک شاپ کھولنے کی اجازت مل گئی اس طرح