تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 122 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 122

تاریخ احمدیت۔جلد 27 122 سال 1971ء مکرم شیخ نصیر الدین صاحب کو اللہ تعالیٰ نے باوجود بے حد مشکلات کے استقلال کے ساتھ کام کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔اور آپ کو حضرت خلیفہ اُسیح الثالث کے درج ذیل ارشاد پر پورا اترنے اور عملی مظاہرہ کرنے کی توفیق ملی۔اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو اور توفیق دے کہ جس رنگ میں اور جس شکل میں ایک احمدی مجاہد دکو یکھنا چاہتا ہے اس رنگ اور شکل میں وہ آپ کو ہمیشہ پائے۔125 مکرم شیخ صاحب نے ابتدائی ایام محمد ادریس صاحب کے مکان جو Lusaka کے باہر ایک کچی آبادی Chibolya Compound میں واقع تھا گزارے۔ہر چند کہ وہاں بجلی اور پانی کی سہولت میسر نہ تھی اور کھانے کی بھی تکلیف تھی مگر دور میں صاحب کیساتھ رہنے کی وجہ سے مقامی باشندوں کو تبلیغ کرنے کا خوب موقع ملا۔126 احمدیہ مشن کی رجسٹریشن مشن کا باقاعدہ آغاز کرنے کے لئے مشن کی رجسٹریشن ضروری ہے اور یہ کارروائی بڑی طویل اور صبر آزما ہوتی ہے اس سلسلہ میں خدا تعالیٰ نے غیر معمولی نصرت فرمائی اور مکرم شیخ صاحب ، مکرم کبیر احمد بھٹی صاحب اور مکرم چوہدری محمد شریف صاحب کی کوششوں سے چند ہفتوں میں مشن کی رجسٹریشن ہو گئی اور ۶ جنوری ۱۹۷۲ء کو متعلقہ محکمہ کی طرف سے اجازت نامہ مل گیا۔127 چونکہ شیخ صاحب کا ویز اعارضی تھا اس لئے اس کے ختم ہونے پر یکم فروری ۱۹۷۲ء کو آپ کو زیمبیا چھوڑ کر تنزانیہ آنا پڑا اور ورک پرمٹ Work permit ملنے پر دوبارہ ۲۱ راگست ۱۹۷۲ء کو Lusaka پہنچے۔128 ابتدائی افریقن احمدی ۶ جنوری ۱۹۷۲ء تک اللہ تعالیٰ کے فضل سے ۶ / افریقن دوست احمدیت میں داخل ہو چکے تھے ان میں سے سوائے محمد اور میں صاحب کے جو پہلے مسلمان تھے سب دوست عیسائیت سے حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔ان دوستوں کے نام درج ذیل ہیں۔ا محمد ادر میں صاحب۔۲۔خلیل احمد کلالہ صاحب۔۳۔بشری کلالہ صاحبہ۔- عبد العزیز مو با نگاہ۔۵۔احمد منو تا صاحب۔۶۔ابوبکریزی صاحب۔129