تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 121
تاریخ احمدیت۔جلد 27 121 سال 1971ء آزادی کے بعد زیمبیا، دولت مشترکہ، مجلس اقوام متحدہ اور افریقی اتحاد کی تنظیم کا ممبر بن گیا اور غیر جانبدار ملکوں کی برادری میں شریک ہو گیا۔انگولا اور موزمبیق کی جنگ آزادی اور زمبابوے (جنوبی رہوڈیشیا) کی سفید فام حکومت کے خاتمے کی جدو جہد میں زیمبیا نے اہم رول ادا کیا۔یوروپی اثر کو کم کرنے کی کوششیں جاری رہیں۔بنکوں، کانوں اور صنعتوں میں سرکاری حصہ ۵۱ فیصدی سے زیادہ کر دیا گیا ہے۔زیمبیا نے بھی برطانیہ کے ساتھ رہوڈ یشیا کے خلاف پابندیوں میں شرکت کی۔اس عمل سے زیمبیا کو کافی نقصان پہنچے۔120 زیمبیا میں احمدیت اگست ۱۹۵۸ء میں محترم مولانا محمد منور صاحب زیمبیا میں مشن کے قیام کا جائزہ لینے کے لئے گئے اور دو ماہ تک وہاں قیام کیا۔121 زیمبیا میں بعض ایشیائی احمدی موجود تھے جنکی خواہش تھی کہ وہاں کسی مبلغ کا تقرر کیا جائے۔۱۹۷۰ء میں مغربی افریقہ کے دورہ سے واپسی پر حضرت خلیفہ اُسیح الثالث کی ملاقات زیمبیا کے وزیر صحت Mr۔W۔P۔Ayinenda اور برطانیہ میں زیمبیا کے سفیر Mr۔P۔W۔Matoka سے ہوئی۔حضور نے اس موقعہ پر زیمبیا میں مشن کھولنے کی خواہش کا اظہار فرمایا۔122 چنانچہ زیمبیا کے پہلے مبلغ مکرم شیخ نصیر الدین احمد صاحب مقرر ہوئے۔جو ۴ را کتوبر ۱۹۷۱ کور بوہ سے روانہ ہوئے اور تنزانیہ سے ہوتے ہوئے ۱۴ ۱۷اکتوبرکو زیمبیا کے دارالحکومت پہنچے۔اگر چہ ویزا کے سلسلہ میں ابتداء میں بہت سی مشکلات پیش آئیں لیکن خدا تعالیٰ کے فضل سے وزٹ ویزا (Visit Visa) مل گیا۔123 پہلے افریقن احمدی مکرم شیخ نصیر الدین احمد صاحب کے زیمبیا پہنچنے کے تین دن بعد پہلے افریقن دوست محمد ادر میں صاحب ملومبا کا سا کا سا احمدیت میں داخل ہوئے۔محترم محمد ادریس صاحب مسلمان تھے لیکن ان کی اہلیہ عیسائی تھیں۔چنانچہ ان کے احمدی ہوتے ہی مخالفت شروع ہو گئی۔ان کی اہلیہ عیسائی مشن کے اکسانے پر انہیں چھوڑ کر چلی گئی۔اس پر اور میں صاحب نے اپنے خاندان کی ایک لڑکی سے شادی کر لی جو ان کی تبلیغ سے احمدی ہو گئیں۔124 بعد ازاں یہ احمدیت پر قائم نہ رہ سکے۔