تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 120
تاریخ احمدیت۔جلد 27 120 سال 1971ء ۱۹۹۰ء میں یہاں ابتدائی مدرسوں میں ۶۱،۲۰۶، ۱۴ طالب علم اور ۳۰۲، ۲۷ / استاد تھے۔ثانوی مدرسوں میں ۷۴۳، ۴۰، ۱ طالب علم اور اعلی تعلیمی اداروں میں ۷۳۶۱ طالب علم تھے۔تاریخ: زیمبیا کی پرانی تاریخ کے بارے میں بہت کم علم ہے۔اٹھارہویں اور شروع انیسویں صدی میں چند پرتگالی مہم جو ( کھوج کار ) اس علاقے تک گئے تھے اور ان کے روز نامچوں سے پتہ چلتا ہے کہ اس علاقے میں افریقیوں کی ایک بہت بڑی سلطنت قائم تھی۔بعد میں جو مہم جو ۱۸۵۱ء میں یہاں پہنچے انہوں نے آبشار وکٹوریہ کا پتہ لگایا۔زیمبیا کی آبادی کا بڑا حصہ بنٹو قبیلے کے لوگوں پر مشتمل ہے۔یہ ۱۷۰۰ء میں اس علاقے میں داخل ہو کر قابض ہو گئے لیکن اس کے بارے میں تاریخی معلومات بہت کم ملتی ہیں۔شروع انیسویں صدی میں عربوں نے بھی شمال سے اس علاقے پر حملہ کیا تھا۔دوسرے حملہ آور قبیلوں میں سے لوزی بہت کامیاب رہا۔ان کے سردار لیوانکا نے ۱۸۹۱ء میں انگریزوں سے مدد مانگی اور اس کے عوض انگریز تاجروں کو تجارت اور کان کنی کی مراعات دیدی گئیں۔۱۸۹۹ء میں برٹش ساؤتھ افریقہ کمپنی نے مغربی اور شمال مغربی علاقے کا نظم و نسق سنبھال لیا۔1911ء میں ان دونوں علاقوں کو ملا کر شمالی رہوڈ یشیا ( موجودہ زیمبیا ) کا نام دے دیا گیا۔۱۹۲۴ء میں برطانوی حکومت نے شمالی رھوڈ یشیا کا نظم ونسق اپنے ہاتھ میں لے لیا۔۱۹۵۳ء میں شمالی اور جنوبی رھوڈیشیا (زمبابوے) اور نیا سالینڈ (ملاوی) کا ایک وفاق قائم کر دیا گیا۔اس وفاق سے اس علاقے نے بڑی ترقی کی۔لیکن اس ترقی کے حقدار صرف سفید فام لوگ تھے۔تمام زمینیں اور کا نیں انہیں کی تھیں۔نظم ونسق کی ہر منزل پر باگ ڈور انہیں کے ہاتھ میں تھی۔دوسرے مقبوضات کی طرح افریقی باشندوں کی حیثیت غلاموں سے بہتر نہ تھی۔چنانچہ افریقی باشندوں میں اس کے خلاف سخت ہیجان رہا۔دوسری عالمگیر جنگ کے بعد آزادی کی تحریک اپنے عروج پر پہنچی اور برطانیہ کو وسطی افریقہ کے اس وفاق کو توڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔۱۹۶۴ء میں نیا سالینڈ، ملاوی کے نام سے اور شمالی رہوڈ یشیا، زیمبیا کے نام سے آزاد مملکتیں بن گئیں۔کینتھ کا ؤنڈا (Kenneth Kaunda)، زیمبیا کے پہلا صدر منتخب ہوئے۔کاؤنڈا ۱۹۶۸ء اور ۱۹۷۳ء میں دوبارہ صدر منتخب ہوئے۔جنوبی رہو ڈ یشیا پر سفید فام اقلیت کی حکومت مسلط رہی جس کے خلاف طویل جنگ جاری رہی۔اب جنوبی رہوڈ یشیا زمبابوے کے نام کی آزاد حکومت ہے۔