تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 113
تاریخ احمدیت۔جلد 27 113 سال 1971ء سے باہر نہیں جائے گا خواہ ہم کو مار دیا جائے۔ہاں اگر جبراً پولیس ہمیں نکالے گی تب بھی ہم اپنے پاؤں سے چل کر نہیں جائیں گے۔محترم صاحبزادہ ( مراد مرز ا وسیم احمد ) صاحب سلمہ نے اپنے ایک خطبہ میں احباب کو بتا دیا تھا کہ اگر احمد یہ ایر یا خالی کرانے کی خاطر حکومت ان کو اور حضرت مولوی عبد الرحمن صاحب اور دیگر ذمہ دار افراد کو گرفتار بھی کرلے تو کوئی یہ نہ سمجھے کہ اب ان کو محلہ احمد یہ خالی کر دینا ہے۔ہر ایک کا رویہ ایسا ہو کہ ایک ایک بچے کو جب تک گھسیٹ کر باہر نہ نکالا جائے نہ نکلے۔اس موقعہ پر سر دارستنام سنگھ صاحب اور شری رام پر کاش پر بھا کرنے ڈی سی اور ایس۔پی کے سامنے ہماری تائید میں باتیں کیں جن کے لئے ہم ہر دو دوستوں کے بے حد ممنون ہیں۔محترم باجوہ صاحب نے بیان کیا کہ ان کے متعد د عزیز ملٹری میں ہیں اور فرنٹ میں مقرر ہیں اگر ان کو ذرہ برابر بھی شک ہو کہ قادیان کی احمد یہ جماعت کے لوگ پرو پاکستانی ہیں یا کسی لحاظ سے حکومت کے خلاف کسی قسم کی کارروائی میں ملوث ہیں تو سب سے پہلے وہ ان کے خلاف ہوں گے۔لیکن ہمارا سالہا سال کا ان کے متعلق تجر بہ اس بات کا کافی ثبوت ہے کہ جماعت احمدیہ حکومت وقت کی وفادار ہے۔اس کے باوجود اگر ان کی نگرانی کی جاتی ہے تو ان کے ایریا کے قریب پولیس یا ملٹری کی گارڈ رکھ کر کی جاسکتی ہے۔شری پر بھا کر صاحب نے واشگاف الفاظ میں بیان کیا کہ ۱۹۶۵ء کی جنگ میں ان کو بھی شک تھا اور وہ اس کی بناء پر ان کے چاروں طرف نگرانی کرتے رہے ہیں۔بہشتی مقبرہ کی دیواروں کے پیچھے سے رات کو پہرہ دیتے رہے ہیں مگر ہم نے کچھ نہیں پایا۔یہ گفتگو ہو رہی تھی کہ پولیس چوکی سے ایس۔پی صاحب کو وائرلیس پر پیغام آیا جسے وہ سننے کے لئے چوکی تشریف لے گئے اور جب چند منٹوں کے بعد واپس آئے تو ان کا رویہ یکسر بدلا ہوا تھا۔چند منٹوں کے لئے انہوں نے ڈی۔سی صاحب کے ساتھ الگ بات کی پھر یہ فرمایا کہ ہم کو تو آپ کی حفاظت کرنی مدنظر ہے وہ ہمارے ایریا میں جلسہ گاہ میں ایک پولیس پوسٹ قائم کر دیں گے اور ایک سویلین ویلفیئر افسر مقرر کر دیا جائے گا اور قادیان سے باہر جانے کی صورت میں وہ ہمارے ساتھ جائے گا۔ہم نے بھی اس تجویز سے اتفاق کیا اور پورے تعاون کا یقین دلایا اور خدا کا شکر ادا کیا کہ اس نے محض اپنے فضل سے ایک بڑے خطرہ کو ٹال دیا۔ان ایام میں احتیاط کے طور پر کوٹھی دار السلام میں مقیم افراد کو بھی شہر میں بلالیا گیا۔بعد میں ہمیں معلوم ہوا کہ مرکزی حکومت کی ہدایت کے مطابق ایس۔پی صاحب گورداسپور کو بذریعہ وائرلیس اطلاع ملی تھی جس کی وجہ سے ان کو ہمیں احمدیہ ایریا سے باہر لے جانے کا فیصلہ تبدیل کرنا پڑا۔