تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 114
تاریخ احمدیت۔جلد 27 114 سال 1971ء خدا تعالیٰ کی عجیب حکمت ہے اور تصرف خداوندی ہے کہ عین اس وقت جبکہ خطرہ کی حالت اپنی انتہا کو پہنچ رہی تھی اللہ تعالیٰ نے ہماری مخلصی کا سامان پیدا کر دیا۔ورنہ یقینی اطلاعات کے مطابق ہمیں احمدیہ ایریا سے نکالنے کا معاملہ ظاہری طور پر اس مرحلہ تک پہنچ چکا تھا کہ محلہ دارالصحت کے خاکروب ۱۹۴۷ء کی طرح اس بات کے لئے تیار تھے کہ ہمارا ایر یا خالی ہونے کے بعد وہ مکانوں کو لوٹیں گے۔یہ واقعہ گذر جانے اور مورخہ ۷۱ - ۱۲-۱۷ کولڑائی بند ہو جانے کے بعد جماعت کی طرف سے پرزور الفاظ میں مرکزی حکومت کے سامنے احتجاج کیا گیا کہ امن پسند اور پابند قانون جماعت احمدیہ کے متعلق کسی خلاف واقعہ اور غلط شکایت کی بناء پر ہتک آمیز سلوک کا جو پلان بنایا گیا تھا جماعت اس پر گہری تشویش اور غم وغصہ کا اظہار کرنے پر مجبور ہے۔ہمارے اس محضر نامہ کے جواب میں حکومت کی طرف سے ہمیں یقین دہانی کی چٹھی موصول ہوئی کہ آئندہ ایسی بات نہیں دہرائی جائے گی۔مورخہ ۷۱ - ۱۲-۲۰ کو پنچایت ہاؤس گورداسپور میں ، آئی۔جی پولیس شری اشونی کمار اور مسٹر سا ہنی مشیر گورنر پنجاب تشریف لائے تو ان کو ملنے کیلئے قادیان سے ایک وفد گیا جس میں خاکسار کے ہمراہ مکرم چوہدری سعید احمد صاحب، مکرم چوہدری فیض احمد صاحب مرحوم اور مکرم چوہدری عبد القدیر صاحب تھے۔اس موقعہ پر صدر انجمن احمد یہ قادیان کے فیصلہ کے مطابق جماعت احمدیہ کی طرف سے ڈیفنس فنڈ میں دس ہزار روپے کی رقم دی گئی۔113 تحدیث نعمت“ کے نام سے ایک معرکۃ الآراء کتاب کی اشاعت حضرت چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان صاحب نے بعض احباب کے اصرار پر اپنے روح پرور حالات زندگی صرف اپنی یادداشت سے قلم برداشتہ تحریر فرمائے جو عدیم المثال حافظہ کی ایک حیرت انگیز مثال ہے۔اشاعت کے لئے حضرت چوہدری صاحب نے یہ شرط عائد فرمائی تھی کہ کتاب ایک جلد تک محدود رہے جس کی وجہ سے قیمتی مسودہ کا معتد بہ حصہ حذف کرنا پڑا تاہم حضرت چوہدری صاحب کے منفرد اسلوب بیان اور روانی میں شاید ہی کہیں فرق محسوس ہوتا ہو۔ناشر کتاب کے فرائض شیخ اعجاز احمد صاحب اور چوہدری بشیر احمد صاحب نے انجام دیئے۔حضرت چوہدری صاحب نے کتاب کے جملہ حقوق تصنیف، ڈھاکہ کے فلاحی ادارہ ڈھاکہ بے نیو ولینٹ ایسوسی ایشن (Dacca Benevolent Association) کو عطا فرمائے۔کتاب